بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

وقف تام ہونے سے قبل موقوفہ زمین سے رجو ع کرنا


سوال

ایک شخص نے بنات کے مدرسہ کے لیے زمین وقف کی،لیکن اس کے پاس تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تین اور مدرسے ہیں۔اس شخص نے جو زمین وقف کی ہے اس پر تعمیراتی کام نہیں ہوا ہے اور نہ اس میں پڑھائی وغیرہ شروع ہوئی،البتہ تعمیراتی نقشہ بنایا ہے۔اب یہ شخص وقف سے رجوع کرنا چاہتا ہےتو موقوفہ زمین واپس اس کی ملکیت میں آتا ہےیا نہیں؟اگر نہیں تو اس کی متبادل صورت کیا ہوگی؟

جواب

            واضح  رہے کہ وقف تام  ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو اس میں کم از کم ایک مرتبہ  استعمال ہو جائے ،چنانچہ مدرسہ کے لیے وقف کی گئی زمین  کا وقف اس وقت تام متصور ہو گا جب اس میں تعلیمی سلسلہ شروع ہو جائے ۔

          صورت مسئولہ  میں اگر اس زمین پر تعلیمی سلسلہ شروع نہ ہوا ہو تو شرعاً واقف کے لیےموقوفہ زمین سے رجوع کرنے کی گنجائش ہے۔  

 

الوقف إخراج المال عن الملک علی وجه الصدقة، فلایصح بدون التسلیم کسائر التصرفات۔ (بدائع الصنائع، کتاب الوقف ،ج:5،ص:328 )

وعند محمد لا يزول ملك الواقف الا بالتسليم الی المتولي او إلی الموقوف عليه۔۔۔ حتی ان علی قوله لو لم يسلم الوقف إلی المتولی لا يزول ملكه ۔(الفتاوی التاتارخانية،كتاب الوقف ، الفصل الثاني ،ج:8،ص:10)

والحاصل ان التسليم علی قول من يشترط التسليم وهو قول محمد يكون باحدی طريقتين: إما باثبات اليد للقيم عليها او لحصول المقصود وذلك في السكنی في مسئلة الدار وبالنزول في مسئلة الخان وبالدفن في مسئلة القبروما اشبه ذلك۔( الفتاوی التاتارخانية،كتاب الوقف،الفصل الثاني والعشرون ،ج:8،ص:185)


فتویٰ نمبر : 5283/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں