بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

مخصوص بکری کی نذر ماننے کے بعد اس کو فروخت کرنا


سوال

میرے پاس ایک بکری ہے میں نے یہ نذر مانی ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالی اولاد کی نعمت سے نوازے تو میں اس بکری کو اللہ کے نام پر ذبح کردوں گا، مجھے ابھی تک کوئی اولاد نہیں ملی لیکن اس بکری نے ابھی تک دو بچے جنے ہیں،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا میرے لئے اس بکری کو یا اس کے بچوں کو فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں،جب کہ ابھی تک میری نذر پوری نہیں ہوئی ہے؟

جواب

فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتاہے کہ اگر کوئی شخص کسی معین چیز کی نذر مان لے تواس کے لیےاس چیز کے بدلے اس کی قیمت یا اس کے برابردوسری چیز دیناجائز ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگرسائل نے  معین بکری کی نذر مانی  اورا ب اس کو فروخت کرنا چاہتا ہےتو یہ شرعاجائز ہے اورجب نذر پوری ہوجائےگی تو اس بکری کی قیمت کو فقرا پر صدقہ کرےگا۔

 

(قوله ونذر) كأن نذر أن يتصدق بهذا الدينار فتصدق بقدره دراهم أو بهذا الخبز فتصدق بقيمته جاز عندنا، كذا في فتح القدير..(ردالمحتار،ج:3،ص:741)

ويجوز دفع القيم في الزكاة عندنا، وكذا في الكفارات وصدقة الفطر والعشر والنذر كذا في الهداية۔(الفتاوى الهندية،ج:1،ص:181)


فتویٰ نمبر : 9388/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں