بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ہیپی کرسمس کہنے کا حکم


سوال

عیسائیوں کو کرسمس مناتے  وقت ہیپی کرسمس کہہ کر مبارکباد دے سکتے ہیں یا  نہیں ؟نیز   جب وہ مبارکباد دیدیں  تو اس کا جواب دے سکتے ہیں یا  نہیں؟ اور ان کو اسلام کی طرف لانے کے لیے  مبارکباد دیتے وقت ہیپی کرسمس کہنا جائز ہے یا  نہیں؟

جواب

               غیر مسلموں کے مذہبی تہواروں  کے موقع پر ان کو مبارکباد دینے کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ چونکہ یہ   تہوار مشرکانہ اعتقادات پر مبنی  ہوتے ہیں اور مسلمان ہونے کے ناطے مشرکانہ اعتقادات سے براءت اور  لاتعلقی کا اظہار کرنا  ضروری ہے، نیزکرسمس کی مبارکباد دینا گویا ان کے نقطہ نظر کی تائید ہے، اس لیے کرسمس کی مبارکباد دینا جائز نہیں ہے، اور اگر  ان کے دین کی تعظیم مقصود ہو تو کفر کا اندیشہ ہے۔ نیز کسی کو اسلام کی طرف لانے کے لیےاپنا دینی  نقصان کرنا کوئی عقل مندی نہیں ہے۔

               لہذا صورت مسئولہ کے مطابق عیسائیوں کو کرسمس مناتے وقت ہیپی کرسمس کہنا  یا ان کی مبارکباد کے جواب میں ہیپی کرسمس کہنا جائز نہیں ہے، نیز ان کو اسلام کی طرف لانے کے لیے  بھی ہیپی کرسمس کہنے کی گنجائش نہیں ہے۔تاہم جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں وہاں اگر  کسی جائز مصلحت کی بناءپر توریۃ مبارکباد کا جواب دیا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔

 

فإن التشبه بهم لا يكره في كل شيئ، بل في المذموم و فيما يقصد به التشبه، كما في البحر.( الدر المختار مع ردالمحتار، ج:6، ص:754)

قال - رحمه الله - (والإعطاء باسم النيروز والمهرجان لا يجوز) أي ‌الهدايا ‌باسم ‌هذين اليومين حرام بل كفر، وقال أبو حفص الكبير - رحمه الله - لو أن رجلا عبد الله خمسين سنة ثم جاء يوم النيروز، وأهدى لبعض المشركين بيضة يريد به تعظيم ذلك اليوم فقد كفر، وحبط عمله، وقال صاحب الجامع الأصغر إذا أهدى يوم النيروز إلى مسلم آخر، ولم يرد به التعظيم لذلك اليوم، ولكن ما اعتاده بعض الناس لا يكفر، ولكن ينبغي له أن لا يفعل ذلك في ذلك اليوم خاصة، ويفعله قبله أو بعده كي لا يكون تشبها بأولئك القوم. (رد المحتار مع الدر المختار، مسائل شتى، ج:6، ص:754)

‌والفرق ‌بين ‌المدارة والمداهنة أن المداراة بذل الدنيا لصلاح الدنيا أو الدين أو هما معا وهي مباحة وربما استحبت والمداهنة ترك الدين لصلاح الدنيا. ( فتح الباري شرح البخاري، ج:10، ص:454)


فتویٰ نمبر : 5296/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں