بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

اشیاء نقد خرید کرقسطوں پر منافع کے ساتھ بیچنا


سوال

اگر کسی شخص کی اپنی کوئی دکان نہ ہو لیکن لوگوں سے آرڈر لیتا ہو اور پھر آرڈر کے مطابق بازار سے  نقد قیمت پر خرید کر آرڈر دینے والے پر قسطوں پر  40 فیصد  منافع کے ساتھ  فروخت کرتا ہو تو کیا ایسا  عقد شرعا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کسی کے پاس سامان موجود نہ ہو  اور وہ  لوگوں سے آرڈر لےکر آرڈر کے مطابق اشیاء خرید  لے اور قبضہ    کرنے کے بعد منافع کے ساتھ بیچے  تو شرعاً  یہ جائز ہے۔

صورت مسؤلہ کےمطابق دکان  نہ ہونے کے باوجو  داگر آرڈر لینے  والا ا پنے لیے چیز خریدکر  اس پر خود یا کسی وکیل کے ذریعے قبضہ کرے تو آڈر دینےوالے پر قسطوں میں 40 فیصد منافع کے ساتھ   فروخت کرنا شرعا جائز ہے۔

 

لأن للأجل شبها بالمبيع؛ ألا يرى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل۔(الهداية، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج:3، ص:78)

البیع مع تاجیل الثمن وتقسیطه صحيح۔(شرح المجلة،لسليم رستم باز،الفصل الثاني فی بيان المسائل المتعلقة بالبيع بالنسيئة والتاجيل ،ج:1،ص:124،المادة:245)


فتویٰ نمبر : 3220/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں