بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

رجسٹرڈ یا غیر رجسٹرڈ کارخانے کی اشیاء کی کاپی بنا کر فروخت کرنا


سوال

اگر کوئی شخص رجسڑڈاور غیر رجسٹرڈ کارخانے  کی اشیاء   مثلا صابن ،شیمپو وغیرہ کا مالک کی اجازت کے بغیر نقل تیار کرکے اصلی  کارخانے  کی قیمت پر فروخت کرے  جب کہ  ایسا کرنے سے کارخا نے کی بدنامی ہوتی ہے  تو کیا ایسا کرنا شرعا درست ہے یا نہیں اور ایسے کاروبار کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ رجسٹرڈ یا  غیر رجسٹرڈ کارخانوں کےپروڈکٹ  کی نقل  بنانا اور پھر اس کو اصلی  کارخانے کی طرف منسوب کرکے بیچنا  شرعا جائز نہیں ۔

صورت مسؤلہ میں صابن اور شیمپو وغیرہ کی نقل(کاپی)  بنانا اور اس کو  اصلی کارخانے کی اشیاء  کی طرف منسوب کر کے اصل قیمت پر بیچنا  دھوکا دہی ہے جوکہ جائز نہیں۔

 

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا فَسَأَلَهُ كَيْفَ تَبِيعُ؟ فَأَخْبَرَهُ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ أَنْ أَدْخِلْ يَدَكَ فِيهِ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَإِذَا هُوَ مَبْلُولٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ» ۔(سنن ابي داود،باب النهي عن الغش،ج:3،ص:272،الرقم:3452)


فتویٰ نمبر : 3221/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں