بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

جسم پر ٹیٹو کے ساتھ وضو اور غسل کرنا


سوال

اگر کسی نے ناسمجھی میں بدن پر ٹیٹو بنالیا ہو تو اب ووہ اس کے ساتھ کیا کرے،نیز اس کے ساتھ وضو اور غسل کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

               جسم کے کسی حصہ کو سوئی وغیرہ کے ذریعے گدواکر ٹیٹو بناناشرعاناجائز ہے، احادیث مبارکہ میں گودنے اور گودوانےوالوں پر لعنت وارد ہوئی ہے، تاہم اگر کسی نےاپنے  جسم پر ٹیٹو بنوالیا ہو تو اس کو چاہیےکہ وہ اس کے زائل کرنے کی کوئی ممکنہ صورت اختیار کرے، البتہ اگر اس کے زائل کرنے سے جسم کے کسی عضو کےتلف ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر اس کو چھوڑدےاور اس پر توبہ واستغفار کرتا رہے۔نیز ٹیٹو کے ساتھ وضو اور غسل درست ہے۔

 

عن ابن عمر، رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌لعن ‌الله ‌الواصلة والمستوصلة، والواشمة والمستوشمة»(صحيح البخاري،كتاب اللباس،باب الوصل في الشعر،ج:4،ص:1685)

يستفاد مما مر حكم ‌الوشم في نحو اليد، وهو أنه كالاختضاب أو الصبغ بالمتنجس؛ لأنه إذا غرزت اليد أو الشفة مثلا بإبرة ثم حشي محلها بكحل أو نيلة ليخضر تنجس الكحل بالدم، فإذا جمد الدم والتأم الجرح بقي محله أخضر، فإذا غسل طهر؛ لأنه أثر يشق زواله؛ لأنه لا يزول إلا بسلخ الجلد أو جرحه، فإذا كان لا يكلف بإزالة الأثر الذي يزول بماء حار أو صابون فعدم التكليف هنا أولى... فإن لم يمكن إزالته إلا بالجرح فإن خيف منه الهلاك أو فوات عضو لم تجب وإلا وجبت، وبتأخيره يأثم، والرجل والمرأة فيه سواء.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الطهارة،مطلب في حكم الوشم،ج:1،ص:538)


فتویٰ نمبر : 5285/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں