بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک واقعے کا حوالہ
سوال
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا گزر ایک بوڑھی عورت کے پاس سے ہوا ۔ بوڑھی عورت نے کہا کہ اللہ تعالی ان (عمر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ خیر کا معاملہ نہ فرمائے کیونکہ انہوں نے میرے لیے کوئی مالی وظیفہ مقرر نہیں کیا ہے۔آپ رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے فرمایا : عمر کو تمہارے حال کی کیا خبر ؟ اس نے جواب دیا کہ میں نہیں سمجھتی کہ کسی کو لوگوں کا حاکم بنا دیا جائے اور وہ ان کے احوال سے بے خبر ہو۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور اپنے آپ کو مخاطب کرکے فرمایا : ہر کوئی مجھ سے زیادہ سمجھدار ہے ، یہاں تک کہ بوڑھی عورت بھی اور اس سے معافی در گزر کی درخواست کر کے اس کو رقم کی ایک مقدار عطا فرمائی۔ اس واقعے کا حوالہ درکار ہے۔
جواب
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ واقعہ جن کتابوں نے نقل کیا ہے، وہ درج ذیل ہیں:
۱۔ علامہ کمال الدین محمد بن موسی الدمیری نے اپنی کتاب "حیات الحیوان"میں۔
۲۔ محمد دیاب اتلیدی نےاپنی کتاب " نوادر الخلفاء" میں۔
تاریخ ،سیرت اور حیات صحابہ کے متعلق دیگر مستند کتب میں یہ واقعہ نہیں ملا، اس لیے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اس واقعے کو بیان کرنے کی بجائے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں مستند واقعات بیان کرنے پر اکتفا کیا جائے۔
ولما رجع رضي الله تعالى عنه من الشام إلى المدينة، انفرد عن الناس، ليتعرف أخبار رعيته، فمر بعجوز في خبائها فقصدها فقالت: يا هذا ما فعل عمر؟ قال: قد أقبل من الشام سالما فقالت: لا جزاه الله عني خيرا قال: ولم قالت: لأنه والله ما نالني من عطائه منذ ولي أمر المؤمنين دينار ولا درهم. فقال: وما يدري عمر بحالك وأنت في هذا الموضع؟ فقالت: سبحان الله والله ما ظننت أن أحدا يلي على الناس، ولا يدري ما بين مشرقها ومغربها! فبكى عمر رضي الله تعالى عنه، وقال: واعمراه كل أحد أفقه منك حتى العجائز يا عمر. ثم قال يا أمة الله بكم تبيعيني ظلامتك من عمر، فإني أرحمه من النار، فقالت: لا تهزأ بنا يرحمك الله! فقال: لست بهزاء فلم يزال بها حتى اشترى منها ظلامتها بخمسة وعشرين دينارا، فبينما هو كذلك، إذ أقبل علي بن أبي طالب، وابن مسعود، فقالا: السلام عليك يا أمير المؤمنين، فوضعت العجوز يدها على رأسها، وقالت: وا سوأتاه شتمت أمير المؤمنين في وجهه، فقال لها عمر رضي الله تعالى عنه: لا بأس عليك رحمك الله. ثم طلب رقعة، يكتب فيها فلم يجد، فقطع قطعة من مرقعته وكتب فيها: بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما اشترى عمر من فلانة ظلامتها منذ ولي إلى يوم كذا وكذا، بخمسة وعشرين دينارا فما تدعي عند وقوفه في المحشر بين يدي الله تعالى فعمر منه بريء شهد على ذلك علي بن أبي طالب وابن مسعود رضي الله تعالى عنهما، ثم دفع الكتاب إلى ولده، وقال إذا أنا مت فاجعله في كفني، ألقى به ربي. (حياة الحيوان الكبرى، ج:1، ص:79، دارالكتب العلمية، بيروت)
قيل: لما رجع عمر، رضي الله عنه، من الشام إلى المدينة، انفرد عن الناس ليتعرف أخبار رعيته، فمر بعجوز في خباء لها فقصدها.فقالت: ما فعل عمر رضي الله عنه؟ قال: قد أقبل من الشام سالماً.فقالت: يا هذا! لا جزاه الله خيراً عني! وقال: ولمَ؟ قالت: لأنه ما أنالني من عطائه منذ ولي أمر المسلمين ديناراً ولا درهماً.فقال: وما يدري عمر بحالك وأنت في هذا الموضع؟ فقالت: سبحان الله! والله ما ظننت أن أحداً يلي على الناس، ولا يدري ما بين مشرقها ومغربها.فبكى عمر رضي الله عنه، وقال: وا عمراه، كل أحد أفقه منك حتى العجائز يا عمر.ثم قال لها: يا أمة الله! بكم تبيعيني ظلامتك من عمر... إلخ. (نوادار الخلفاء، ص:10، دارالكتب العلمية، بيروت)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں