بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

گاہک مہیا کرنے پر کمیشن لینا


سوال

ایک دکاندار کادوسرے دکاندار کو گاہک دینا اور اس گاہک کے عوض کمیشن لینا کیسا ہے؟

جواب

 بائع اور مشتری کے مابین خرید و فروخت میں واسطہ  بننے والا شخص  دلال کہلاتا ہے، فقہائے کرام  نے   دلال کی اجرت    کوجائز  قرار دیا ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر  گاہک مہیا کرنے والے  دوکاندار کےلیے گاہک مہیا کرنے کے عوض اجرت  متعین کی گئی  ہو تو اس کی حیثیت دلال کی ہوگی ،لہذا  گاہک کی فراہمی پر  اس  کا دوسرے دوکاندار سے اجرت وصول کرنا جائز ہوگا ،تاہم دلال کے لئے اس بات کی رعایت ضروری ہے کہ وہ گاہک کی رہنمائی کر نے میں جھوٹ اور دھوکہ دہی سے اجتناب کرے ۔

 

وفي الحاوي سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الاجارة،باب ضمان الاجير،ج:9،ص:87)


فتویٰ نمبر : 3227/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں