بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

علم کسبی اور وہبی میں فرق


سوال

علم لدنی یا علم وہبی کسی کو حاصل ہوسکتا ہےیا نہیں؟اگر حاصل ہوسکتا ہے تو اس کی کیفیت کیا ہوتی ہےنیز افضل علم کسبی ہے یا علم وہبی؟

جواب

                علم لدنی یا علم وہبی وہ علم ہے جوحصول  علم کے ظاہری اسباب اختیار کئے بغیر اللہ تعالی محض اپنے فضل سے کسی کو عطا کردے،اور یہ علم اللہ تعالی اپنے خاص بندوں کو تقوی اور عمل صالح کی بدولت  عطا کرتے ہیں ۔علم وہبی کے حصول میں  تقوی، عمل صالح کے ساتھ  علم کسبی کا بھی عموما دخل ہوتا ہے  ،تاہم علم وہبی کا حصول انسان کے دائرہ اختیار میں نہیں جبکہ علم کسبی وہ علم کہلاتا ہےجس کے حصول کے لیے ظاہری اسباب اختیار کئے جاتے ہیں مثلا لکھنا، پڑھنا ،سیکھنا،وغیرہ۔ جہاں تک افضل ہونے کا تعلق ہے  تو کسی ایک علم کو دوسرے پربلادلیل  ترجیح نہیں دی جاسکتی  بلکہ دونوں علم  افضل ہیں کیونکہ انبیاءکرام کا علم وہبی تھا جبکہ احادیث مبارکہ میں علم کسبی کے  بھی فضائل وارد ہوئے ہیں۔

 

والعلم نور في قلب المؤمن مقتبس من مصابيح مشكاة النبوة من الأقوال المحمدية، والأفعال الأحمدية، والأحوال المحمودية يهتدى به إلى الله وصفاته وأفعاله وأحكامه، فإن حصل بواسطة البشر فهو كسبي، وإلا فهو ‌العلم ‌اللدني.( مرقاة المفاتيح،كتاب العلم،ج:1،ص:437)

العلم نوعان: كسبيٌّ ووهبيٌّ، أما الأول فيكون تحصيله بالاجتهاد والمثابرة والمذاكرة، وأما الثاني فطريقه تقوى الله والعمل الصالح كما قال تعالى {واتقوا الله وَيُعَلِّمُكُمُ الله} وهذا العلم يسمى العلم اللُّدُني {وآتيناه من لدنَّا علماً} وهو العلم النافع الذي يهبه الله لمن شاء من عباده المتقين.(صفوة التفاسير،سورة البقرة،ج:1،ص:162)


فتویٰ نمبر : 5286/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں