بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

انسپکٹرکا رشوت لینا


سوال

 میرا میڈیکل سٹور ہے اور میڈیکل سٹور کی چیکنگ ڈرگ انسپکٹر کے ذمہ ہوتی ہے ۔ہوا یہ کہ دو مرتبہ ڈرگ انسپکٹر میرے سٹور پہ آیا اور اپنے ذاتی استعمال کیلئے ادویات لیں اور بغیر رقم ادا کیے چلا گیامیں اس کی پوزیشن کی وجہ سے منع نہیں کر سکاکیا یہ سارا عمل رشوت لینے اور دینے کے زمرے میں آتا ہےیا نہیں ۔

جواب

                شریعت مطہرہ کی روسے کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کی  رضامندی اور اجازت کے بغیر اس کا مال استعمال کرے ۔

               صورت مسئولہ کے مطابق اگر  انسپکٹرنے  سائل کی رضامندی کے بغیر اس کا مال لیا ہو، تو یہ اس کے لیے حلال نہیں، البتہ اگر  سائل کی رضامندی اس میں نہ ہو،تواس سے  وہ گناہ گار نہیں ہو گا، لیکن اگرسائل نے  اپنے ناجائز مقاصد کی  تکمیل کے لیے مفت دوائیاں دی ہوں ،تو پھر یہ رشوت کے زمرے میں آکر اس سے دونوں گناہ گار ہونگے ۔

 

عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ‌لا ‌يحل ‌مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه "(کتاب شعب الایمان،رقم الحدیث، 5105، ج:7،ص:346)

ونوع منها أن يهدي الرجل إلى رجل مالا بسبب أن ذلك الرجل قد خوفه فيهدي إليه مالا ليدفع الخوف عن نفسه، أو يهدي إلى السلطان مالا ليدفع الظلم عن نفسه، أو عن ماله وهذا نوع لا يحل الأخذ لأحد، وإذا أخذ يدخل تحت الوعيد المذكور في هذا الباب، وهل يحل للمعطي الإعطاء؟عامة المشايخ على أنه يحل؛ لأنه يجعل ماله وقاية لنفسه، أو يجعل بعض ماله وقاية للباقي.

ونوع منها أن يهدي الرجل إلى رجل مالا ليسوي أمره فيما بينه وبين السلطان ويعينه في حاجته، وإنه على وجهين.الوجه الأول أن تكون حاجته حراما، وفي هذا الوجه لا يحل للمهدي الإعطاء ولا للمهدى إليه الأخذ(الفتاوي الهندية،کتاب ادب القاضي، ج:3، ص:331)


فتویٰ نمبر : 5282/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں