بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رخصتی سے قبل مطلقہ کی عدت کا حکم


سوال

 آپ کا ایک فتوی نمبر324/297/6233  نظر سے گزرا جو کہ تنسیخ نکاح سے متعلق ہے اس میں رخصتی  سے قبل عدالتی تنسیخ کے بعد عدت گزارنے کا حکم لکھا ہے اب سوال یہ ہے کہ کیا رخصتی سے قبل عدالتی تنسیخ نکاح کی صورت میں عدت   ہوگی لیکن طلاق رخصتی سے پہلے دینے کی صورت میں  عدت نہیں  ہوتی؟

جواب

             واضح رہے کہ نکاح کے بعد اگر  خلوت صحیحہ   سے پہلے بیوی کو طلاق دی جائے یا عدالت کے ذریعے اس کا نکاح ختم ہو جائے تو ایسی عورت پر عدت گزارنا واجب نہیں، البتہ اگرخلوت صحیحہ   ہو چکی ہو تو پھرکسی اور سے  نکاح کرنے  کے لیے عدت گزارنا   واجب ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ رخصتی سے قبل بھی خلوت صحیحہ کا امکان ہوتا ہے ،اس لیے ہمارے فتوی میں عدت کی شرط لکھی گئی   تھی، تاہم جواب میں  کچھ اجمال تھا اس کی تصحیح کردی گئی ہے۔

 

رجل ‌تزوج ‌امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة كذا في فتاوى قاضي خان ۔إن فرق قبل الدخول لا تجب العدة ،‌‌أربع ‌من ‌النساء لا عدة عليهن: المطلقة قبل الدخول. (الفتاوي الهندية،الباب الثالث عشرفي العدة،ج:1،ص:579،580)


فتویٰ نمبر : 6603/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں