بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

خریدی ہوئی چیز میں ویلیو ایڈ کیے بغیر آگے فروخت کرنا


سوال

پراپر ٹی میں کچھ معروف اور اچھی شہرت کی حامل سوسائٹیوں میں لوگ پلاٹ خریدتے ہیں،خریداری میں شرائط بھی پوری ہوتی ہیں یعنی پلاٹ کی لوکیشن اور اسکی پیمائش وغیرہ کا تعین موجود ہوتا ہے لیکن صرف ان سوسائٹیوں کی اچھی شہرت کی وجہ سےاس پلاٹ کی قیمت کچھ عرصہ بعد ڈبل ہوجاتی ہےپھر یہ پلاٹ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ اور پھر تیسرے ہاتھ تین گنا اور پھر چار گنا تک چلا جاتا ہے اس میں کسی نے محنت نہیں کی اور نہ اس چیز میں کوئی ویلیو ایڈ کی تو کیا اس طرح کے کاروبار میں انویسٹمنٹ کرنا اور نفع لینا جائز ہے جس میں صرف وقت کے گزرنےکا فائدہ لیا جائےمیرا سوال اس بنیاد پر ہے کہ ایک دفعہ ایک عالم دین نے ایک واقعہ ذکر کیا جس میں حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے مدینہ کے بازار میں ایک شخص سے کشمش کا ڈھیر خرید کر موقع پر فروخت کرنے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نمائندے نے یہ کہہ کر روک دیا کہ آپ جب تک اس میں کوئی ویلیو ایڈ نہیں کرتے اس وقت تک اس میں نفع لینا جائز نہیں، یعنی کم از کم اس ڈھیر کو اپنی دکان تک تو لایا جائے یا یہ کہ اس کو کسی دکان پر جاکر بیجا  جائے ورنہ تو یہ ڈھیر یہی پڑا پڑا دگنی قیمت تک پہنچ جائے گا ۔

جواب

                شریعت مطہرہ کی رُو سے مالک اپنی مملوکہ چیز کو خریدار پر اس کی رضامندی کے ساتھ کم یا زیادہ قیمت پر فروخت کرسکتا ہےبشرطیکہ وہ چیز مالک کے قبضہ میں ہو کیونکہ جو چیز قبضہ میں نہ ہو اس کو آگے بیچنا جائز نہیں، تاہم غیر منقولی اشیاء(زمین،جائیدادوغیرہ)کو قبضہ سے پہلےبھی فروخت کرسکتا ہے۔

              صورت مسئولہ کے مطابق پلاٹ کی خریداری کے بعداسے کم یا زیادہ قیمت پر فروخت کرنا اور نفع لینا جائز ہے ، سائل نے جو روایت ذکر کی ہے اس کے صحیح الفاظ یہ ہیں "حکیم بن حزام نے غلہ خریدا جو حضرت عمر نے لوگوں کو دلوایا تھاپھر حضرت حکیم بن حزام نے اس غلہ کو قبضہ سے پہلے بیچ ڈالاجب حضرت عمررضی اللہ عنہ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے وہ غلہ حکیم بن حزام کو واپس کردیا اور کہا جس غلہ کو تم خریدو اس کو اس وقت تک نہ بیچو جب تک اس پر قبضہ نہ کر لو" اس روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت حکیم بن حزام  رضی اللہ عنہ کی فروخت کردہ چیز کو واپس کرنا اس وجہ سے تھاکہ انہوں نے اس کو قبضہ سےپہلے فروخت کیا تھا نہ کہ اس وجہ سے کہ انہوں اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا تھا۔ لہذا کسی منقول چیز کےقبضہ  میں آنے کے بعدبغیر کسی اضافہ کے آگے بیچنا جائز ہے ۔

 

مالك، عن نافع؛ أن ‌حكيم ‌بن ‌حزام، ابتاع طعاما، أمر به عمر بن الخطاب للناس. فباع حكيم الطعام قبل أن يستوفيه.فبلغ ذلك عمر بن الخطاب. فرده عليه. وقال: لا تبع طعاما ابتعته، حتى تستوفيه.(موطأالإمام مالك،باب ما لم يقبض من الطعام وغيره،ج:3،ص:198)

عن أنس قال: غلا السعر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالوا: يا رسول الله، سعر لنا، فقال ‌إن ‌الله ‌هو ‌المسعر، القابض، الباسط، الرزاق، وإني لأرجو أن ألقى ربي وليس أحد منكم يطلبني بمظلمة في دم ولا مال.(جامع الترمذي،ابواب البیوع،باب،ج:3،ص:163)


فتویٰ نمبر : 3225/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں