بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قبروں کو مسمار کرکے ميدان ياپارکنگ بنانا


سوال

کیا  قبرستان کی پرانی قبور کو مسمار کرکے اس پر میدان اور گاڑیوں کے لیےپارکنگ بنایا جا سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

 قبرستان اگر موقوفہ  ہو کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو تو اس  کی زمین پر کسی کے لیے ذاتی ملکیتی تصرف کرنا شرعا جائز نہیں،بلکہ جس مقصد کے لیے وقف ہے اسی میں استعمال کرنا لازم ہے۔البتہ اگر قبرستان کسی کی ذاتی ملکیت ہو اور اس میں مالک کی اجازت کے بغیر میت دفنائے گئے ہوں تو مالک  ان   کو وہاں سے نکال سکتا ہےاورپھر اس میں ہر قسم  کاجائز  تصرف کرسکتا ہے۔ اور اگر اجازت سے اس میں مردےدفن ہوں  تو اگر وہ مٹی بن چکے ہوں تو ان کی قبروں کے آثار مٹا کراس جگہ میں دوسرے تصرفات کیے جاسکتے ہیں۔

 

فإن قلت: ‌هل ‌يجوز ‌أن ‌تبنى ‌على قبور المسلمين؟ قلت: قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا، وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد، لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هذا واحد.(عمدة القاري، باب الصلوة في مرابض الغنم، ج:4، ص:179)

وسئل ‌هو ‌أيضا ‌عن ‌المقبرة في القرى إذا اندرست ولم يبق فيها أثر الموتى لا العظم ولا غيره ‌هل ‌يجوز ‌زرعها ‌واستغلالها؟ قال: لا، ولها حكم المقبرة، كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، ج:6، ص:470)

وقال ‌الزيلعي: ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اهـ. قال في الإمداد: ويخالفه ما في التتارخانية إذا صار الميت ترابا في القبر يكره دفن غيره في قبره لأن الحرمة باقية، وإن جمعوا عظامه في ناحية ثم دفن غيره فيه تبركا بالجيران الصالحين، ويوجد موضع فارغ يكره ذلك. اهـ.(رد المحتار على الدر المختار، مطلب في دفن الميت، ج:3، ص؛233، دارالفكر)


فتویٰ نمبر : 5277/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں