بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شفٹنگ آلاؤنس لینا


سوال

ميں شہر آلائی ضلع بٹگرام  کا رہائش پذیر ہوں اور عرصہ 35 سال سے آرڈیننس ڈپو کوئٹہ میں سرکاری ملازم تھا اور اب ڈپو سے ریٹائر ہوگیا ہوں ،قانونی طور پر جو ملازم ریٹائر ہوجائے اس کو شفٹنگ کا آلاؤنس ملتا ہے جبکہ عرصہ پہلے بندے نے اپنا شناختی کارڈ ایڈریس چینج کیا ہے اورڈومیسائل بھی ادھر ہی کا بنوایا ہےتاحال اپنے علاقے میں کسی ضرورت کے علاوہ نہیں جاتا ۔بندے کے بہن،بھائی،والد اور جائیداد ادھر ہیں کیا شرعی طور سے اس آلاؤنس کولینے کا مجاز ہوں؟

جواب

                اگرادارے کی طرف سے یہ قانون ہو کہ ریٹائرمنٹ کے بعداس شخص کومنتقلی  کاآلاؤنس دیاجائے گاجس کاگھر ملازمت کے شہر سے دور ہوتو ایسی صورت میں اُس شخص کے لیے یہ آلاؤنس لینا جائز نہیں جس کا گھر ملازمت والے شہر ہی میں ہو  ،البتہ اگر ادارے کی طرف سے کسی قسم کی کوئی تصریح نہ ہو بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد ہر شخص کو تبادلہ کا آلاؤنس دیا جاتا ہو تو پھر اس کے لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

              صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل ریٹائر منٹ کے بعد ملازمت والے شہر ہی میں رہتاہو اور ان کے ادارے کے قانون کے مطابق آلاؤنس اس شخص کو ملتا ہو جس کا گھر ملازمت کی جگہ سے دور ہو تو ایسی صورت میں سائل کے لیےیہ آلاؤنس لینا جائز نہیں۔

 

عمرو بن عوف المزني، عن أبيه، عن جده، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌المسلمون ‌على ‌شروطهم إلا شرطا حرم حلالا، وأحل حراما، والصلح جائز بين الناس، إلا صلحا أحل حراما أو حرم حلالا»(المعجم الكبير،الباب:عمروبن عوف بن ملجة المزني،ج:17،ص:22)


فتویٰ نمبر : 5287/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں