بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

ملازمت میں ترقی کے لیے رشوت دینا


سوال

میں سرکاری محکمے میں ملازم ہوں،ہمارے شعبہ میں پروموشن ہورہا ہے،میں نے پوری کوشش کی،لیکن افسران بالا  بغیر رشوت کے مجھے پروموشن نہیں دے رہےہیں،حالانکہ قانونی طور پراُس عہدہ کےلیے میں اہل ہوں اور میرا حق بنتا ہے۔کیا میں اس پروموشن کے لیے رشوت دے سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

              واضح رہےکہ رشوت دےکرناجاِئزطریقےسےاپنےمقصدکوحاصل کرنایاکسی حق دارکاحق چھیننا عظیم گناہ ہے،اس لیےہرمسلمان کےلیےرشوت  دینےاورلینےسےاپنےآپ کوبچاناانتہائی ضروری ہے،لیکن اگرکوئی شخص کسی چیزکاحق دارہو،اوررشوت کےبغیراس کی وصولی ممکن نہ ہو،توفقہائے کرام کےہاں ایسی حالت میں رشوت دےکراپنےحق کووصول کرنےکی گنجائش ہے،البتہ رشوت لینےوالےکےلیےرشوت لیناہرصورت میں ناجائزاورحرام ہے۔

            صورتِ مسئولہ کے مطابق اگرسائل واقعی قانوناًاس پروموشن کااہل اوردیگر سب کی نسبت زیادہ مستحق ہو،اس کےباوجودافسرانِ بالاترقی نہیں دیتے،تواس صورت میں رشوت دینےکی گنجائش ہےلیکن لینے والے کے لیے بہرحال حرام ہے،اوراگرقانوناًحق نہ بنتاہویا کوئی دوسرا زیادہ حق دار ہو،توپھررشوت دینااورلینادونوں حرام ہیں۔

 

لا بأس بالرشوة إذا خاف على دينه والنبي عليه الصلاة والسلام .كان يعطي الشعراء ولمن يخاف لسانه.قال ابن عابدین:دفع المال للسلطان الجائرلدفع الظّلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له لیس برشوۃ.(ردّ المحتارعلی الدّرالمختار،کتاب الحظروالإباحة،باب الاستبراءوغیرہ،ج:9،ص:607)

إذادفع الرّشوۃ خوفاعلی نفسه أوماله،فھوحرام علی الاٰخذغیرحرام علی الدّافع.(شرح المجلّة لخالد الأتاسی،مادۃ:1796،ج:6،ص:40)


فتویٰ نمبر : 5274/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں