بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

طلاق کو شرط پر معلق کرنا


سوال

ایک شخص مشت زنی کی بیماری میں مبتلا تھا، پھر ایک عالم دین  کا بیان سن کر اس سے توبہ کیا اور یہ شرط لگائی کہ اگر میں نے اس کے بعد مشت زنی کی تو مجھ پر میری بیوی طلاق ہوگی،پھر بہت وقت کے بعد اس پر شہوت کا غلبہ ہوگیا اور مشت زنی کی بجائے بستر سے اپنی خواہش پوری کرلی،یعنی بستر سے لمس کرکے اپنی منی نکالی،کیا اس سے اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مشت زنی ايك ناپاک اور قبیح عمل ہے، چنانچہ احادیث مبارکہ میں مشت زنی کرنے والے پر لعنت کی گئی  ہے، نیزعرف عام میں مشت زنی  سے ایک خاص طریقے کے ساتھ اپنی خواہش کو پورا کرنا مراد ليا جاتا ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگراس شخص نے بستر سےشہوت پوری کرتے وقت ہاتھ کا استعمال کیا ہو تو شرط پائے جانے کی وجہ سے اس کی بیوی کو ایک طلاق رجعی واقع ہوگی،تاہم اگرہاتھ کا استعمال نہ کیا ہو تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔

 

(والاستمتاع بالجزء حرام) لقوله - صلى الله عليه وسلم - «‌ناكح ‌اليد ‌ملعون».(فتح القدیر على الھدایۃ،كتاب النكاح،فصل في بيان المحرمات،ج:3، ص:221)

وقال ابن عابدين: والعرف ‌في ‌الشرع ‌له ‌اعتبار ... لذا عليه الحكم قد يدار.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب النكاح،مطلب في السفر بالزوجة،ج:3، ص:147)


فتویٰ نمبر : 6593/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں