بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ذکربالجہر کی شرعی حیثیت


سوال

ہفتہ میں ایک مرتبہ ذکربالجہر کرنا کیسا ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے سری طورپر ذکرکرنا اللہ تعالی کو زیادہ پسندیدہ اور محبوب ہے۔اس میں خشوع اور ریاسےبھی حفاظت  ہوتی ہے تاہم اگر کوئی روحانی علاج کی خاطریا دل میں اللہ تعالی کی یاد کو مجتمع کرنے کے لیے ذکر بالجہر کرتا ہےتو مندرجہ ذیل امور کی رعایت رکھتے ہوئے،اس کی گنجائش ہے:

(1)نمازی یا دوسرے اعمال میں مصروف لوگوں کے لیےباعث تشویش نہ ہو،

(2)کسی کی ایذارسانی کا سبب نہ بنے اور ریاکاری کا خوف نہ ہو  ،

(3)جہرمفرط نہ ہو یعنی چیخ وپکار نہ ہوبلکہ متوسط آواز کے ساتھ ہو کہ صرف آس پاس کے لوگ سن سکیں،

(4)استحباب یا سنیت کا اعتقاد نہ ہواورنہ ہی التزام ہو۔

 

قال الله تعالى:﴿وَٱذۡكُر رَّبَّكَ فِي نَفۡسِكَ تَضَرُّعٗا وَخِيفَةٗ وَدُونَ ٱلۡجَهۡرِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡغَٰفِلِينَ﴾(الأعراف،205)

قال العلامة آلوسي(رحمه الله تعالى) تحت هذه الأية:‌والمراد ‌بالجهر ‌رفع ‌الصوت المفرط وبما دونه نوع آخرمن الجهر. قال ابن عباس رضي الله تعالى عنهما: هوأن يسمع نفسه وقال الإمام: المرادأن يقع الذكرمتوسطابين الجهروالمخافتةكماقال تعالى وَلاتَجْهَرْبِصَلاتِكَ وَلاتُخافِتْ بِها.(روح المعاني، سورةالأعراف، الأية:205، ج:9، ص:154)

وقال القاضي ثناءالله(رحمه الله تعالى) تحت هذه الأية:فان الإخفاءدليل الإخلاص وأبعدمن الرياء. اعلم ‌ان ‌الذكر ‌مطلقا ‌عبادة سواء كان جهرا إذالم يخالطه الرياء اوسرا عن أبي هريرة قال قال رسول الله _صلى الله عليه واله وسلم_ يقول الله تعالى: اناعندظن عبدى بي وانامعه إذا ذكرنى فان ذكرنى فى نفسه ذكرته فى نفسي،  وان ذكرنى فى ملأ ذكرته فى ملأخيرمنهم متفق عليه .فان هذاالحديث يفيدذكرالجهروالخفي كليهما ثم أجمع العلماءعلى أن الذكر سرا هو الأفضل. (تفسيرالمظهري، سورة الأعراف،الأية:205،ج:2،ص:361)


فتویٰ نمبر : 5280/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں