بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

لقطے پر خرچہ کی ذمہ داری


سوال

زاہد ایک سرکاری ملازم ہے اور اس کو سرکاری رہائشی علاقہ میں ایک سرکاری کمرہ رہائش کے لیے ملا ہوا ہے اس کے کمرے میں ایک سائیکل ایک سال سے زیادہ عرصہ تک کھڑی رہی تھی اوروہ  سب سے پوچھتا رہا کہ یہ کس کی ہے اس کا کوئی وارث نہیں ملا۔  تقریباً دو سال پورے ہونے والے تھے کہ زاہد نے اس سائیکل کو ٹھیک کروا لیا اور اس پر زاہد نے 2500 روپے کا خرچہ کیا جب سائیکل ٹھیک ہو گئی اور ایک ماہ بعد حامد جو اس جگہ کاروبار کر رہا تھا اس سائیکل کا وارث بن گیا کہ یہ سائیکل شاید میری ہے اور زاہد نے اس کو بولاہو سکتا ہے کہ یہ آپ کی ہو،  اس طرح اتنے عرصہ سے میرے کمرے میں تھی ، اور بارشوں اور دھوپ سے خراب ہو چکی تھی ، اس پر میں نے اتنا خرچہ کیا ہے ، اگر آپ کی ہے تو مجھے میرا خرچہ دے دو اور سائیکل لے لو تو انہوں نے خرچہ نہیں دیا، بلکہ اس نے خرچے کے مطالبے پر جواب دے دیا کہ مجھ سے پوچھے بغیرخرچہ کیا ہے میں نہیں  دیتا اور مجھے میری سائیکل دے دو ۔ اب آپ بتائے کہ اسلام میں کیا حکم ہے کہ زاہد اپنے خرچہ کا مطالبہ کر سکتا ہے اور حامد کواس کو خرچہ دینا چاہیے کہ نہیں؟

جواب

              واضح رہے کہ لقطہ میں ملی ہوئی چیز پر جو رقم خرچ کی جاتی ہے وہ شرعا تبرع کے حکم میں  ہے یعنی مالک سے اس کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا،البتہ اگر قاضی حکم   دیدے کہ اس پر خرچہ کرتے رہو  جب مالک مل جائے گا اس سے وصول کرلینا،تو ایسی صورت میں خرچے کی رقم وصول کرنے کا حق ہوتا ہے۔

               لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر اس دوسرے شخص نے علامات بتا کرسائیکل پر ملکیت کا دعوی کیا ہو اور لقطہ اٹھانے والے کو اس پر اعتماد آچکا ہوتو وہ اس کو سائیکل دیدے پھر اگر اس نے اس سائیکل  پر قاضی کی اجازت کے بغیر خرچہ کیا ہے  تو وہ مالک سے اس کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔تاہم چونکہ اس نے مالک کو  وہ چیز  درست کرکےدیدی ہے اس لیے اچھے اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس کو خرچے کی رقم حوالہ کردے۔

 

(وهو في الإنفاق على اللقيط واللقطة متبرع) لقصور ولايته (‌إلا ‌إذا ‌قال ‌له ‌قاض أنفق لترجع) فلو لم يذكر الرجوع لم يكن دينا في الأصح.(الدر المختار مع رد المحتار، كتاب اللقطة، ج:4، ص:281)

‌وما ‌أنفق ‌الملتقط على اللقطة بغير إذن الحاكم فهو تبرع، كذا في الكافي. وبإذن القاضي يكون دينا، وصورة إذن القاضي أن يقول له: أنفق على أن ترجع. (الفتاوى الهندية، كتاب اللقطة، ج:2، ص؛290)


فتویٰ نمبر : 5276/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں