بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

چوری کے مال کا حکم


سوال

چوری کیاہوا مال جس کا مالک معلوم نہ ہو اس کا کیا حکم ہے؟نیز چوری کیا ہوامال بیٹی اور داماد کو دے سکتے ہیں ،اگر دے سکتے ہیں   تو اگر ان کو اس بات کا علم ہو کہ یہ چوری کا مال ہے تو ان کو لینا کیسا ہے؟

جواب

 جو مال چوری یا دوسرے حرام طریقوں سے حاصل کیا  گیا ہو وہ مالک کو لوٹانا ضروری ہےلیکن اگر مالک معلوم نہ ہو تو اس کو مالک کی طرف سے فقراء پرصدقہ کیا جائے۔نیز دوسرے شخص کو  جب علم ہو کہ یہ حرام مال  ہے تو اس کو قبول کرنا جائز نہیں ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق چوری کے مال کو مالک  کی طرف سے  فقراء پر صدقہ کیا جائے گا ،نیز بیٹی اور داماد کے غریب ہونے  کی صورت میں ان کوبھی  دینا جائز ہےالبتہ اگر ان کو اس بات کا علم ہو کہ یہ چوری کامال ہے تو  پھر ان کو اس کا لینا جائز نہیں۔

 

والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه۔(ردالمحتارعلي الدرالمختار، كتاب البيوع، ج:7، ص:301)

 (قوله الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك. (ردالمحتارعلي الدرالمختار، كتاب البيوع، ج:7، ص:300)

 (قوله الحرمة تتعدد إلخ) نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في كتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام.....وكذا لا يحل إذا علم عين الغصب مثلا وإن لم يعلم مالكه، لما في البزازية أخذه مورثه رشوة أو ظلما، إن علم ذلك بعينه لا يحل له أخذه. (ردالمحتارعلي الدرالمختار، كتاب البيوع، ج:7، ص:301)


فتویٰ نمبر : 5279/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں