بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سفر میں سنت مؤکدہ کا حکم


سوال

سفر میں سنت مؤکدہ چھوڑنا کیسا ہے؟

جواب

                   واضح رہے کہ احادیث مبارکہ میں سنت مؤکدہ کی ترغیب اور فضیلت آئی ہے،اس لیے سنتوں کو بلاعذر نہیں چھوڑنا چاہیئے،البتہ حالت سفر میں حکم یہ ہے کہ اگر سفر جاری ہو اور جلدی ہو یا گاڑی نکلنے کا اندیشہ ہو،یا ساتھیوں کو پریشانی ہورہی ہویا خوف ہو،تو پھر صرف فرائض کی ادائیگی کافی ہے،اور فجر کے علاوہ دیگر سنتوں کو چھوڑنا جائز ہے،البتہ فجر کی سنتوں کی تاکید چونکہ زیادہ ہے،اس لیے فجر کے فرائض کے ساتھ وہ بھی پڑھی جائیں گی۔اور اگر سفر جاری ہولیکن کسی مقام پر نماز ہی کے لیے رکے ہوں اور جلدی نہ ہو اور امن ہوتو پھر سنتوں کو پڑھنا بہتر ہے۔اسی طرح اگر مسافر کسی بستی یا شہر میں ٹھہرا ہو اور پندرہ سے کم قیام ہو تو بھی حالت امن وقرار میں سنتیں پڑھنی چاہیئے۔

 

عن أم حبيبة قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «‌من ‌صلى ‌في ‌يوم ‌ثنتي ‌عشرة ركعة بنى الله عز وجل له بيتا في الجنة»(السنن للنسائي،كتاب الصلوة،باب من صلى في اليوم ثنتي عشرة ركعة،رقم الحديث:1798،ج:2،ص:261)

وقيد بالفرض؛ لأنه لا قصر في الوتر والسنن واختلفوا في ترك السنن في السفر فقيل: الأفضل هو الترك ترخيصا وقيل الفعل تقربا وقال الهندواني: الفعل حال النزول والترك حال السير، وقيل يصلي سنة الفجر خاصة، وقيل سنة المغرب أيضا، وفي التجنيس والمختار أنه إن كان حال أمن وقرار يأتي بها؛ لأنها شرعت مكملات والمسافر إليه محتاج، وإن كان حال خوف لا يأتي بها؛ لأنه ترك بعذر.(البحر الرائق،كتاب الصلوة،باب المسافر،ج:2،ص:141)


فتویٰ نمبر : 9370/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں