بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 14/08/2026

دارالافتاء

 

خنزیر سے جفتی کرائی گئی گائے کے دودھ کا حکم


سوال

خنزير سے جفتی کرائی گئی گائے  کے دودھ کا کیا حکم ہے؟

جواب

              حیوانات کی نسل مادہ جانور سے ثابت ہوتی ہے ،نر جانور کے مادہ منویہ کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا  نیز جانوروں کے دودھ کے حلال اور حرام ہونے کا مدار  اس جانور کی ذات پرہے  اگر جانور  اور اس کا گوشت حلال ہوتو اس کا دودھ بھی حلال ہو   گا اور اگر  اس کا گوشت حرام ہو تو اس کا دودھ بھی حرام ہو گا ۔

                 لہذا صورت مسئولہ کے مطابق خنزیر سے جفتی کرائی گئی گائےچونکہ بذات  خود حلال ہےاور اس کا گوشت بھی  حلال ہے لہذا اس گائے کا دودھ بھی حلال ہو گا  اور اس کا استعمال کرنا  بھی  جائز  ہو گا۔

 

لأن اللبن يتولد من اللحم، فصار مثله.(البحر الرائق،فصل في الاكل والشرب،ج:8،ص:207)

واللبن ‌يتولد ‌من ‌اللحم فأخذ حكمه.(فتح القدير،فصل في الاكل والشرب،ج:10،ص:6)

إن البقرة الأهلية إذا نزا عليها ثور وحشي فولدت ولدا فإنه يجوز أن يضحى به، وإن كانت البقرة وحشية والثور أهليا لم يجز؛ لأن الأصل في الولد الأم؛ لأنه ينفصل عن الأم وهو حيوان متقوم تتعلق به الأحكام وليس ينفصل من الأب إلا ماء مهين لا حظر له ولا يتعلق به حكم.(بدائع الصنائع،ج:5،ص:59)

لأن ‌المعتبر ‌في ‌الحل والحرمة الأم فيما تولد من مأكول وغير مأكول۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الذبائح،ج:9،ص:442)


فتویٰ نمبر : 5291/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں