بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 14/08/2026

دارالافتاء

 

لفظ "حرام"سے طلاق کا وقوع


سوال

میرے شوہر جو شادی سے پہلے نشہ کرتے تھے لیکن جب ہماری شادی طے ہوئی اس وقت ہم سے یہ غلط بیانی کی گئی کہ وہ نشہ چھوڑ چکا ہے حالانکہ صرف وقتی طور پر نشہ چھوڑا تھا شادی کے بعد بھی مجھے کئی دفعہ یہ گمان ہوا کہ وہ چھپ چھپ کر نشہ کرتے تھے پھر ایک سال بعد کراچی شہر میں میری بیٹی کی ولادت ہوئی تو میں نے اپنے گھر میں اپنے شوہر کو نشہ کرتے پکڑ لیا تھا اور نشے کی چیزیں میں نے اپنے والد کے سامنے پیش کی تو میرے شوہر نے میرے والد کے سامنے ساری صورتحال واضح ہونے کے باوجود اس سے صاف انکار کر دیا اور میرے والد صاحب نے بھی بات کو نظر انداز کر دیا کہ جب شخص انکاری ہے تو وہ نشہ نہیں کرے گا ، اس کے بعد ہم اپنے گاؤں مانسہرہ چلے گئے ، لیکن میرے شوہر وہاں بھی نشہ کرتے رہے پھر ایک سال بعد ہمارا دوبارہ کراچی واپس آنا ہوا اور میں اسی قصد سے یہاں آئی کہ ان کا نشہ چھڑوانا ہے تو میں نے اپنے شوہر پر یہ دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ تم نشہ چھوڑ دو اور میرے کافی اصرار کے بعد میرے یقین دہانی کے لیے میرے شوہر نے یہ اقرار کیا کہ میں یکم جون تک نشہ چھوڑ دوں گا اور اپنا علاج کر لوں گا اور اگر میں نے یکم جون تک نشہ نا چھوڑا تو تم مجھ پر حرام ہو ہو پھر کچھ دن بعد ہمارا میکے آنا ہوا اور اسی ساری بات کا تکرار ہوا تو میرے شوہر نے میرے والد کے سامنے بھی یہ اقرار کیا کہ میں یکم جون تک خود کو کلین اور کلیئر کر دوں گا اگر میں یکم جون تک خود کو نشے سے کلین نہ کر پایا تو عاکفہ یعنی میں اس پر حرام ہوں گی پھر چند دن گزرنے کے بعد نشہ چھوڑنے کی شدید تکلیف ہوئی تو میرا شوہر غصے میں یہ اصرار کرنے لگا کہ گاؤں چلتے ہیں لیکن میں نے صاف انکار کر دیا کہ ہم گاؤں نہیں جائیں گے ، کیونکہ مجھے علم تھا کہ وہ دوبارہ نشے پر لگ جائے گا جس پر میرے شوہر نے غصے میں مزید یہ اقرار کرلیا اگر میں 15 جون تک گاؤں نہ گیا تو تم مجھ پر حرام ہوگی پھر 15 جون گزرنے کے بعد تک ہم کراچی میں ہی تھے یعنی وہ گاؤں نہیں گیا اور کچھ دنوں بعد میں نے میں نے اسے ہیروئن پیتے یعنی نشہ کرتے ہوئے پکڑ لیا اور میرا شوہر روزانہ کی بنیاد پر ہیروئن کا نشہ کرنے لگا ، میں نے اپنے شوہر کے سامنے یہ ساری بات رکھی کہ تم اقرار کر چکے تھے کہ تم دوبارہ نشہ نہیں کرو گے اور اب دوبارا کرنے لگ گئے ہو اور تمہارے گاؤں جانے والا اقرار بھی ٹوٹ گیا ہے تو اس لحاظ سے تو مجھ پر طلاق واقع ہوگئی ہے میرے شوہر نے نے مجھے یہ بتایا کہ اس طرح طلاق نہیں ہوتی اس طرح فقط قسم ٹوٹتی ہے اور قسم کا کفارہ میں ادا کروں گا اور مجھے قائل کر لیا اپنے دلائل سے اور میں اسی غلط فہمی میں رہی کہ اس طرح طلاق نہیں ہوتی اس کے بعد ہم دوبارہ گاؤں آگئے اور ابھی کچھ دنوں پہلے ہمارے درمیان ایک لڑائی ہوئی اور اس لڑائی میں اس نے غصے میں مجھے یہ جملہ کہا کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی، جاؤ اپنی امی کے گھر اور اسکے بعد یہ جو آخری والا واقعہ ہوا اس واقعے اس نے مجھ سے رجوع بھی کر لیا ۔ یہ سب واقعات کے بعد یہ ساری صورت حال میں نے اپنے والدین کے سامنے رکھی اور میں خود بھی مطمئن نہیں کہ پرانے واقعات سے مجھے طلاق واقع ہوئی یا نہیں نہیں اگر طلاق واقع ہوئی تو کتنی طلاق واقع ہوئی ؟ شریعت کی روشنی میں میرے مسئلے کی وضاحت فرمادیں۔

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے  لفظ "حرام"  طلاق کے لیے صریح ہے ،اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوتی ہے ۔ اور طلاق بائن بالکنایات  پہلے سے دی جانے والی طلاق  بائن کے  ساتھ ملحق نہیں ہوتی البتہ صریح بائن ہر قسم کے  بائن کے ساتھ ملحق ہوتی ہے۔

صورت  مسئولہ میں اگر  واقعتا  شوہر  نے یہ کہا ہو کہ " اگر میں نے یکم جون تک نشہ نہ چھوڑا تو تم مجھ پر حرام ہو"  اس کے بعد  اگر یکم جون تک شوہر نے نشہ نہ چھوڑا ہو تو بیوی کو ایک طلاق بائن ہوچکی ہے،اسی طرح یہ شرط کہ "اگر میں 15 جون تک گاؤں نہ گیا تو تم مجھ پر حرام ہوگی"  اگر پوری نہ  ہوئی تو بیوی پر دوسری  طلاق بائن بھی واقع ہوچکی ہے ،اس کے بعد اگر  شوہرنے عدت کے اندر اندر یہ کہا ہوکہ  "  میں نے تجھے طلاق دی، جاؤ اپنی امی کے گھر"تو تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی ہے اور بیوی مغلظہ ہوچکی ہےاور اگر عدت کے بعد یہ الفاظ کہے ہوں تو ان کا اعتبار نہ ہوگا۔ چنانچہ دونوں باہم رضامندی سے نکاح کرسکتے ہیں البتہ  شوہر آئندہ صرف  ایک طلاق کا مالک ہوگا۔

 

وهذا ‌في ‌عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الطلاق،باب الصريح،ج:4،ص:464)

(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح،.مطلب الصريح يلحق الصريح والبائن.(قوله الصريح يلحق الصريح) كما لو قال لها: أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني بحر، فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا (قوله ويلحق البائن) كما لو قال لها أنت بائن أو خلعها على مال ثم قال أنت طالق أو هذه طالق بحر عن البزازية، ثم قال: وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الطلاق،باب الكنايات،ج:3،ص:306)

وأما الذي يرجع إلى المرأة فمنها الملك أو علقة من علائقه؛ فلا يصح الطلاق إلا في الملك أو في علقة من علائق الملك وهي عدة الطلاق أو مضافا إلى الملك. (بدائع الصنائع،کتاب الطلاق،ج:3،ص:126)

"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب".( ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الطلاق،باب الرجعة،ج:3،ص:409)


فتویٰ نمبر : 6600/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں