بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

مدرسے کے پیسے استعمال کرنا


سوال

کیا مدرسے کا  مہتمم یا ناظم مدرسے  کے اضافی  پیسے کچھ وقت کے لیے عارضی طور اپنے لیے استعمال  کرسکتا ہے؟

جواب

            جس مقصد  کیلئے لوگو ں  سے چندہ وصول کیا جائے اس کو اسی مقصد میں استعمال کرنا لازم ہے ۔

            صورت مسؤلہ میں مدرسہ کے پیسے مہتمم  یا متولی کے ہاتھ میں امانت ہوتے ہیں  چندہ دہندہ گان کا مقصد طلبہ اور مدرسہ کی ضروریات پر خرچ کرنا ہوتا ہے ،اور مہتمم چندہ دہندہ گان کا وکیل ہوتا ہے اور وکیل کیلئے جائز نہیں کہ وہ امانت کی رقم خود استعمال کرے یا کسی اور کو استعمال کے لیےدے، کیونکہ یہ درحقیقت امانت میں خیانت متصور ہوگی جو کہ جائز نہیں۔

 

أما الذي يرجع إلى الموكل فهو أن يكون ممن يملك فعل ما وكل به بنفسه؛ لأن التوكيل تفويض ما يملكه من التصرف إلى غيره. (بدائع الصنائع،كتاب الوكالة، فصل  فی شرائط الوكالة ج:6،  ص:20)

 الوكيل بالهبة والصدقة والإعارة والإيداع والرهن والقرض إذا فعل ما أمر به وقبض لا يملك المطالبة برد شيء من ذلك إلى يده ولا أن يقبض الوديعة والعارية والرهن ولا القرض ممن عليه؛ لأن الحكم في هذه العقود يقف على القبض، ولا صنع للوكيل في القبض... أن المقبوض في يد الوكيل بجهة التوكيل بالبيع والشراء وقبض الدين والعين وقضاء الدين - أمانة بمنزلة الوديعة... لأن يده يد نيابة عن الموكل بمنزلة يد المودع، فيضمن بما يضمن في الودائع. (بدائع الصنائع،كتاب الوكالة، فصل في الوكيلان هل ينفرد أحدهما بالتصرف فيما وكلا به، ج:6،  ص: 34)

لا یجوز لاحد ان یتصرف فی ملک الغیر بلا اذنه او وکالة منه او ولاية عليه، وان فعل کان ضامنا. (شرح المجلة، لسلیم رستم باز،المادة:96، ج:1، ص:61)


فتویٰ نمبر : 5290/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں