بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

گندم پیسنےکی اجرت میں گندم مقررکرنا


سوال

زید کے علاقے میں آٹا چکی والے دکاندار حضرات فی بوری گندم پر ایک کلو گندم کاٹتے ہیں اور اس کے علاوہ فی کلو گندم پیسنےکے پانچ روپے لیتے ہیں مفتی صاحب رہنمائی  فرمائیں کہ یہ چکی والے دکاندار کا ان بوریوں سے گندم کاٹنا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟

 

جواب

                   واضح رہے کہ جو چیز خود اجیر کے عمل پر موقوف ہواس کو بطوراجرت مقررکرنا جائز نہیں ، لیکن اگر وہ اجیر کے عمل پر موقوف نہ ہو تو پھر جائز ہے۔

                  لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر اجرت اس گندم سے مقررکی جائے جس کو ابھی تک پیساگیانہ ہو تو یہ جائز ہے۔کیونکہ کے اس  میں اجیرکے عمل کا کوئی دخل نہیں ہے۔نیزایک بوری کی اجرت ایک کلوگندم کے ساتھ پانچ روپے مقررکرنابھی جائزہے

 

وكذا إذا استأجر حمارا يحمل طعاما بقفيز منه فالإجارة فاسدة"؛ لأنه جعل الأجر بعض ما يخرج من عمله فيصير في معنى قفيز الطحان، وقد نهى النبي صلى الله عليه وسلم عنه، وهو أن يستأجر ثورا ليطحن له حنطة بقفيز من دقيقه.(الهداية،كتاب الإجارة،باب الإجارة الفاسدة،ج:3،ص:208)

 والحيلة في ذلك لمن أراد الجواز أن يشترط صاحب الحنطة قفيزا من الدقيق الجيد ولم يقل من هذه الحنطة.(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،ج:1،ص:111)


فتویٰ نمبر : 3215/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں