بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

مشترکہ چیز میں اپنےحصے کو نفع کے ساتھ بیچنا


سوال

زید ایک موبائل خریدنا چاہہتا  ہے  جس کی قیمت 40ہزار روپے ہیں،لیکن فی الحال زید کے پاس 20ہزار  روپے ہیں،بکر نے زید سے کہا کہ باقی 20ہزار  روپے  میں دوں گا  ،لیکن فی ہزار روپے   میں آپ سے 300سو روپے   لوں گا۔اس میں تین صورتیں ہیں:(1) زید کو وکیل بناکر  پیسے دیدے۔(2):براہ  راست  دوکاندار کو یہ پیسے ریدے۔(3): زید سے 20 ہزار روپے  لیکر  خود دوکاندار سے موبائل لیکر زید کے حوالہ کر دے۔شریعت کی سے زید وبکر کا یہ معاملہ  درست ہے یا نہیں؟واضح رہے کہ  زید ،بکر کے ساتھ اس معاملے پر راضی ہے اور یہ  معاملہ بطور قرض کے نہیں بلکہ بطور  تجارت ہے۔

جواب

                   واضح رہے کہ قرض کی صورت میں جتنی رقم کسی  کے ذمہ واجب الاداء ہوتی ہے   اتنی ہی  رقم  قرض خواہ   کو واپس   کرنا ضروری  ہوتا   ہے، چنانچہ قرض کی ادائیگی پرکسی قسم کے اضافہ کا مطالبہ کرنا یا  شرط لگانا  سود کے زمرے میں   آنے  کی وجہ  سے جائز نہیں ہے۔

                صورت مسئولہ  کے مطابق بکر کا زید کو 20 ہزار روپے بطور قرض فراہم کرکے اس سے  ہر ہزار کے عوض300سو اضافہ کا مطالبہ کرنا  سود کے زمرے  میں  داخل ہے ، اس لیے جائز نہیں تاہم اس کی جائز صورت  یہ ہو سکتی ہے کہ بکر  اور زید مشترکہ طور پر موبائل خریدیں اور پھر بکر اپنا حصہ زید پر نفع کے ساتھ فروخت  کرے  ۔

 

قال محمد رحمه الله في كتاب الصرف: إن أبا حنيفة كان يكره ‌كل ‌قرض ‌جر منفعة قال الكرخي: هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد ؛بأن أقرض عادلية صحاحاً أو ما أشبه ذلك، فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد، فأعطاه المستقرض أجود مما عليه، فلا بأس به۔(الفتاوي التاتارخانية،كتاب البيوع،ج:9،ص:388)


فتویٰ نمبر : 3214/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں