بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

سوشل میڈیا میں تصویر پر" ماشاءاللہ" لکھنا


سوال

سوشل میڈیا (فیس بک وغیرہ) میں تصویر پر "ماشاء اللہ"کہنا یا لکھنا کیسا ہے؟

جواب

                 واضح رہے کہ ڈیجیٹل آلات کے ذریعے لی گئی تصاویر  بھی شرعی اعتبار سے تصویر کے حکم میں داخل ہیں ،اور عرف میں بھی اس کو تصویر ہی کہا جاتا ہے،اس لیے بغیر کسی  اشد  ضرورت کے ذی روح  کی تصویر  کھینچنا ناجائز اور گناہ ہے۔

                 صورت مسئولہ کے مطابق سوشل میڈیا (فیس بک  وغیرہ) میں  نشر کی گئی ڈیجیٹل تصاویر بھی تصویر کے زمرےمیں داخل  ہیں ،لہذا  بلا ضرورت  ذی روح چیزکی تصویر نشر کرنا شرعا  ناجائزاورگناہ ہے ،البتہ   ان کو پسند(like) کرنا  اور ان  پر تائیدی تعلیقات(comments) مثلا ،ماشاءا للہ، سبحان اللہ وغیرہ،لکھنے یا کہنے میں دو پہلو نظر آتے ہیں ،ایک پہلو یہ ہےکہ تصویر میں کسی شخصیت کو اچھی حالت میں دیکھ کر اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کلمات کہے یالکھے جائیں ظاہر ہے کہ اس کا تعلق تصویر سے نہیں ہوتا،بلکہ اس شخصیت کی ذات  سے  ہوتا ہے لہذا یہ جائز ہے،اور  دوسرا پہلو یہ ہے کہ اچھی تصویر آئی ہو،اور تصویر کو دیکھ کرتصویر پرہی  داد دینا مقصود ہو،تو اس صورت میں یہ جائز نہیں اس لیے اس  سےاحتراز کرنا لازمی ہے،تاہم چونکہ غیر ذی روح چیز کی تصویر بناناشرعا مباح ہے اس لیےاس پر  تائیدی تعلیقات(comments) ماشاءاللہ وغیرہ لکھنا یا کہناجائز ہے۔

 

عن عبد الله بن مسعود يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:أشد ‌الناس ‌عذابا ‌يوم القيامةالمصورون.(الصحيح لمسلم،كتاب اللباس والزينة،باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة،رقم الحديث:٢١٠٩،ج؛2،ص:201 مكتبه رشيديه )

وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء ‌تصوير ‌صور ‌الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه - صلى الله عليه وسلم - «أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم» ثم قال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام على كل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى.( البحر الرائق شرح كنز الدقائق،باب ما يفسد الصلاة فيها وما لا يفسد فيها،ج:2،ص:29، دار الكتاب الإسلامي)

الضرورات تبيح المحضورات.(شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة21،ص:29)


فتویٰ نمبر : 5267/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں