بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

حرام رقم سے كاروبار كرنا


سوال

ززید ایک سودی بینک میں منیجر کےپوسٹ پر تھا اس کو ریٹائر منٹ کے بعد جو رقم یک مشت ملی ہے تو اس سے زید نے مارکیٹ بنائی ،اب سوال یہ ہے کہ ایسی مارکیٹ میں کرایہ پر دکان لینا شرعا کیسا ہے؟ بکر کا موقف ہے کہ سودی بینک کا منیجر براہ راست سودی معاملات میں ملوث ہوتاہے،اس لیے اس کی تنخواہ اور اس پر ملنے والی پنشن حرام ہے لہذا زید نے جو مارکیٹ سودی بینک سے ملنے والی پیشن کے پیسوں سے بنائی ہے اس مارکیٹ سے کرایہ پر دکان لینا جائز نہیں ہے،کیونکہ جو چیز اصلا حرام ہو اس کی حرمت متعدی ہوتی ہے،جبکہ عمروکا موقف ہے کہ مذکورہ مارکیٹ میں کرایہ پر دکان لینے کی گنجائش ہے کیونکہ حرام کمائی والا شخص حرام کمائی سے کوئی عقد کرلے اور اس میں کمائی والا پہلے(ایڈوانس)وہ پیسے دیکر عقد نہ کرلے (یعنی عقد کے بعد وہ پیسے ادا کرے)تو اس عقد سے حاصل ہونے والی چیز میں خبث(حرمت)نہیں آتی،اور ہمارے عرف میں عام طور پر چونکہ معاملہ ایڈوانس والی صورت کے بغیر ہی ہوتا ہے اس لیے ان دکانوں میں خبث نہ آئے گا ،اور ان کو کرایے پر لینا جائز ہوگا۔

جواب

             واضح رہے کہ   کنونشنل    بینکوں میں  جو کاروبار ہوتے ہیں، ان میں زیادہ تر سودی معاملات ہوتے ہیں اور دین اسلام میں سود کا اشد درجہ حرام ہونا کسی پر مخفی نہیں ،اسی وجہ سے کنونشنل  بینکوں میں سودی معاملات کے ساتھ وابستہ ملازمت اور اس کی تنخواہ حلال نہیں ایسی رقم کو بلا نیت ثواب صدقہ کرنا لازم ہے،تاہم اگر کسی نے اس حرام رقم کے ساتھ  کاروبار کیا  تو اس سے گناہ تو بہر حال ہوگالیکن اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو فقہاےکرام نے دو شرطوں کے ساتھ حلال لکھا ہے،پہلی شرط یہ ہے کہ خریداری کے وقت پہلےحرام رقم دے کر اس کے عوض خریداری نہ کی ہواوردوسری شرط یہ ہے کہ خریداری کے وقت حرام رقم کی طرف اشارہ کرکے وہی رقم ادا نہ کی ہو۔

              صورت مسئولہ میں اگر  سودی بینک کے منیجر  نےپنشن کے پیسوں سے مارکیٹ بنائی ہے تووہ گناہ گارتو ہوگاکیونکہ ان پیسوں کو فقرا پر بلا نیت ثواب صدقہ کرنا تھا ،تاہم کوئی دوسرا شخص  اس عمارت میں کرایہ پر دکان لے سکتا ہے۔

 

(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: ‌رجل ‌اكتسب ‌مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام. (ردالمحتار على الدرالمختار،کتاب البیوع،مطلب إذااكتسب حراما...ج:5،ص:235)

والحاصل ‌أنه ‌إن ‌علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.(ردالمحتار على الدر المختار،باب البيع الفاسد،مطلب فيمن ورث مالا حراما،ج:7،ص:300)


فتویٰ نمبر : 3205/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں