بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

چوری کے مال کی خرید وفروخت


سوال

زاہداللہ نے ایک نا معلوم شخص سے سیب کی دو پیٹیاں خریدیں جوکہ چوری کی تھیں اب زاہد اللہ اس بات پر نادم ہے ،اور وہ دونوں پیٹیاں بیچ دی ہیں اب زاہد اللہ اس تمام رقم کو صدقہ کرے یا اپنی رقم نکال کر صدقہ کرے؟

جواب

               واضح رہے کہ اگرخریدار کو اس بات کا علم ہوکہ فروخت کنندہ چوری کی اشیاء بیچ رہا ہے  تو اس کے لیے چوری کی اشیاء کو خریدنا جائز نہیں، اگر خریدار نے چوری کا مال خریدلیا تو اُسےاس مال کو استعمال  کرنا یا آگے فروخت کرنا  یا فروخت کرکے حاصل شدہ رقم کو استعمال کرنا جائز نہیں، بلکہ مالک کے معلوم ہونے کی صورت میں اس تک پہنچانا ضروری ہےاور معلوم نہ ہو نے کی صورت میں مالک کی طرف سے فقرا ومساکین پر صدقہ کرے گا۔

              لہذا صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ شخص نے چوری کی پیٹیوں کو فروخت کرکے جو رقم حاصل کی ہےتو  مالک کے معلوم ہونے کی صورت میں پیٹیوں کی اصل قیمت اس کو حوالہ کردے جب کہ   مالک کے معلوم نہ ہونے کی صورت میں تمام رقم بلا نیت ثواب صدقہ کردے۔

 

‌وفيه: ‌الحرام ينتقل، فلو دخل بأمان وأخذ مال حربي بلا رضاه وأخرجه إلينا ملكه وصح بيعه، لكن لا يطيب له ولا للمشتري منه.قال ابن عابدين رحمه الله:‌قوله:(‌الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك، ويأتي تمامه قريبا(قوله ولا للمشتري منه) فيكون بشرائه منه مسيئا؛ لأنه ملكه بكسب خبيث، وفي شرائه تقرير للخبث، ويؤمر بما كان يؤمر به البائع من رده على الحربي؛ لأن وجوب الرد على البائع إنما كان لمراعاة ملك الحربي ولأجل غدر الأمان، وهذا المعنى قائم في ملك المشتري كما في ملك البائع الذي أخرجه.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،ج:7،ص:300)

‌والحاصل ‌أنه ‌إن ‌علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.(ردالمحتار على الدر المختار،باب البيع الفاسد،مطلب فيمن ورث مالا حراما،ج:7،ص:301)

(‌كما ‌لو ‌تصرف في المغصوب الوديعة) بأن باعه (وربح) فيه (إذا كان) ذلك (متعينا بالإشارة أو بالشراء بدراهم الوديعة أو الغصب ونقدها) يعني يتصدق بربح حصل فيهما إذا كانا مما يتعين بالإشارة.قال ابن عابدين رحمه الله:قوله:(‌إذا ‌كان ‌متعينا ‌بالإشارة) وذلك كالعروض فلا يحل له الربح أي ولو بعد ضمان القيمة.(ردالمحتارعلى الدر المختار،كتاب الغصب،مطلب شرى دارا...ج:9،ص:276)


فتویٰ نمبر : 3206/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں