بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
حديث"اگر تم پر حبشی حاکم بن جائےتو اس كی اطاعت کرو''
سوال
وہ حدیث جس میں نبی پاک ﷺنے حکمرانوں کے متعلق فرمایا ہے کہ "اگر حبشی ہو تو بھی اطاعت کرو"پوری حدیث کیاہے؟
جواب
سوال میں مذکورالفاظ والی روایت متعدد کتبِ حدیث میں مختلف الفاظ کے ساتھ مختلف صحابہ سے مروی ہے،چنانچہ صحیحِ بخاری میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا" سنو اور اطاعت کرو خواہ ایک ایسے حبشی غلام کو تم پر حاکم بنا دیا جائےجس کا سر گویا منقی(خشک انگور)کی طرح ہو"۔ اسی طرح صحیحِ مسلم میں حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ "میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں حج کیا، نبیﷺ نے بہت سی باتیں فرمائیں،پھر میں نے آپﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم پر ایک نکٹے غلام(میرا گمان ہے کہ آپﷺ نے سیاہ بھی فرمایا) کو بھی حاکم بنادیا جائےاور وہ تم کو کتاب اللہ کے مطابق حکم دےتو اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو"۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن أبي التياح، عن أنس بن مالك رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اسمعوا وأطيعوا، وإن استعمل عليكم عبد حبشي، كأن رأسه زبيبة». (صحيح البخاري،دار الطوق النجاة،ج:9،ص:62)
حدثني سلمة بن شبيب، حدثنا الحسن بن أعين، حدثنا معقل، عن زيد بن أبي أنيسة، عن يحيى بن حصين، عن جدته أم الحصين، قال: سمعتها تقول: حججت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حجة الوداع، قالت: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم قولا كثيرا: ثم سمعته، يقول: " إن أمر عليكم عبد مجدع - حسبتها قالت: أسود - يقودكم بكتاب الله، فاسمعوا له وأطيعوا. ( صحیح مسلم، دار إحياء التراث العربي،ج:3،ص:1468)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں