بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اجنبیہ عورت سے خود اور اس کی بیٹیوں کا اپنے بیٹوں کے ساتھ نکاح کرنا


سوال

اگر کسی شخص کے دو بیٹے ہوں اور دوسری طرف کسی عورت کی دو بیٹیاں ہوں   تو کیا   اس آدمی کا خود اس عورت سے نکاح  اوراپنےدو بیٹوں کا نکاح اس کی دوبیٹیوں سے جائز ہے یا نہیں؟

جواب

                 اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے تو اس پراس  عورت کے اصول وفروع حرام ہو جاتے ہیں، البتہ اس شخص کے  بیٹوں   (جو کسی دوسری بیوی سے ہوں ) کا اس  عورت کی  بیٹیوں (جو کسی دوسرے شوہر سے ہوں )سے نکاح کرنا شرعا جائز ہے۔

                لہذاکسی  شخص کا ایک  عورت کے ساتھ خود اور اپنے دو بیٹوں کا اس کی  دوبیٹیوں سے نکاح کرناجائز ہے۔

 

وكذلك لا بأس بأن يتزوج المرأة ويزوج ابنه أمها أو ابنتها فإن محمد بن الحنفية رضي الله تعالى عنه تزوج امرأة وزوج ابنتها من ابنه، وهذا لأن بنكاح الأم تحرم الأم هي على ابنه، فأما أمها وابنتها تحرم عليه لا على ابنه فلهذا جاز لابنه أن يتزوج أمها أو ابنتها۔(المبسوط للسرخسي،كتاب النكاح،ج4،ص212)


فتویٰ نمبر : 6585/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں