بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خوبصورتی کے لیے مصنوعی پلکیں لگانا


سوال

کیا عورت خوبصورتی کی خاطر عارضی یا مستقل طور پر پلکوں کے بال لگا سکتی یا نہیں؟

جواب

                خواتین کے لیے شرعی  حدود میں رہ کر زیب و زینت اختیا رکرنا  جائز ہے جبکہ  غیر محرموں کو دکھانے  یا دیگر خواتین کے سامنے فخر  کی غرض سے زینت اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔

               لہذا صورت مسئولہ کے مطابق   عورتوں کے لیے  زیب و زینت کی خاطر (انسان اور خنزیر کے بالوں کے علاوہ) مصنوعی پلکیں لگانے کی گنجائش ہے ، بشرطیکہ ان مصنوعی پلکوں سے دھوکہ دینا یا خلافِ حقیقت صورت کا اظہار مقصود نہ ہو، البتہ وضو کے لیے پلکیں  ہٹا  کروضو کرنا ضروری ہوگا  ،جبکہ مصنوعی پلکوں کے مستقل طور پر لگانے کے بارے ہمیں معلومات نہیں ،اس لیے ان کے شرعی احکام بیان نہیں کر سکتے۔

 

ويكره للمرأة أن تصل شعر غيرها من بني آدم بشعرها لقوله  عليه الصلاة والسلام لعن الله الواصلة والمستوصلة ولأن الآدمي بجميع أجزائه مكرم والانتفاع بالجزء المنفصل منه إهانة له ولهذا كره بيعه ولا بأس بذلك من شعر البهيمة وصوفها لأنه انتفاع بطريق التزين بما يحتمل ذلك ولهذا احتمل الاستعمال في سائر وجوه الانتفاع فكذا في التزين.(بدائع الصنائع،کتاب الحظر والاباحة، باب الاستحسان،ج6،ص502)

(قوله: سواء كان شعرها أو شعر غيرها) لما فيه من التزوير كما يظهر مما يأتي، وفي شعر غيرها انتفاع بجزء الآدمي أيضاً، لكن في التتارخانية: وإذا وصلت المرأة شعر غيرها بشعرها فهو مكروه، وإنما الرخصة في غير شعر بني آدم تتخذه المرأة لتزيد في قرونها، وهو مروي عن أبي يوسف، وفي الخانية: ولا بأس للمرأة أن تجعل في قرونها وذوائبها شيئاًمنالوبر۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار،فصل في النظر والمس،ج9،ص535)


فتویٰ نمبر : 5252/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں