بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

عوتوں کے لیے لینز استعمال کرنے کاحکم


سوال

عورت ضرورت یا تزئین  وخوبصورتی کی خاطر مختلف قسم کے لینز لگا سکتی یا نہیں؟

جواب

                لینز کا استعمال دو طرح کا ہوتا ہے ایک  نظر کے لئے کہ  کسی کی بینائی کمزور پڑ جائے تو وہ عینک کی جگہ لینز لگاتا ہے اور دوسرے قسم کلر لینز  جو  زیب و زینت کے لیے لگا یا جاتا ہے  ان دونوں کے لگانے میں شرعا کوئی مضائقہ نہیں،البتہ خواتین کے لیے اس  بات کا لحاظ ضروری ہے کہ زیب وزینت  اپنے شوہروں کے لیے   کرنی ہو نہ کہ اجانب اورغیر محرموں کے لیے،نیزاس میں اللہ تعالی کی فطری خلقت کا تغیر و تبدل لازم نہ آتا ہو۔

               صورت مسئولہ میں اگر عورت کے لینز لگانے کی غرض بینائی کی کمزوری ہو یا زینت کے لیے ہو دونوں صورتوں میں لینز لگانا جائز ہے،بشرطیکہ اپنے شوہرکے سامنے خوبصورت بننا  مقصود ہو ،چنانچہ اگر نا محرموں کے سامنے زیب وزینت کا اظہار کرنا مقصود ہو تو ایسی صورت میں اس کا لگانا جائز نہیں ۔

 

قال الله تعالی:﴿وَلَا يبْدِينَ زِينَتهُنَّ إِلَّا لِبعُولَتِهِنَّ﴾(سورۃالنور:31)

وعن ابن عمر قال :قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"من تشبه بقوم فهو منهم".(مشکاۃالمصابيح،کتاب اللباس،الفصل الثانی،ص375)

وعن ابن مسعود قال :عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : " المرأة عورة فإذا خرجت استشرفها الشيطان".(مشکاۃالمصابيح،کتاب النکاح،باب النظرإلی المخطوبةوبيان العورات،الفصل الثانی،ص:269)


فتویٰ نمبر : 5253/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں