بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

قرض پر نفع لینا


سوال

ایک شخص  یا ادارہ نے کسی  شخص کواس شرط پر52ہزار روپے قرض دیے  کہ    ہر ماہ 4 ہزار روپے قسط کے ساتھ 50 یا100 روپے اضافی بطور چندہ بھی دو گے  تو کیا ان سے قرض لینا اور ہر قسط کے ساتھ اضافی پیسے لوٹانا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

                واضح رہے کہ قرض دینے والا اگر قرض میں کوئی ایسی شرط لگائے جس کی وجہ سے اس کو فائد ہ ہو تو اس طرح معاملہ کرنا سود کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔

               صورت مسؤلہ میں اس شرط پر قرض لینا کہ ہرماہ 4 ہزار روپے قسط کے ساتھ 50 یا 100 روپے بھی اضافی دینے  ہوں گے،شرعاً یہ معاملہ سود پر مبنی ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔

 

قال الله تعالیٰ:﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾(البقرة:275)

قال:(كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر(رد المحتارعلى الدرالمختار،كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية،ج:8،ص:295)


فتویٰ نمبر : 3203/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں