بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

گاؤں سمندی میں نماز جمعہ کا حکم


سوال

گاؤں سمندی تین ہزارسےزیادہ  آبادی پرمشتمل ہے۔گاؤں سمندی میں 12 مساجدہیں،3دینی مدارس ہیں دو بنین کےاورایک بنات کی ہے،بنات کی کل تعداد تین سوہے،ان میں سےسترمسافرطالبات ہیں،یہ تینوں مدرسے وفاق کےساتھ الحاق شدہ ہیں۔25 سندیافتہ علمااورقراء حضرات ہیں،15معلمات ہیں،دکانوں کی تعداد 40 ہیں،ان دکانوں میں روزمرہ کی ضروریات پوری ہوجاتی ہیں جن میں آٹا،گندم،گیس،شمسی(سولر)،بیٹری،گیس سلنڈر،شادی کی سامان،بلاک،اینٹ،واٹرپمپ،پیکومشین،ٹیلرز،سرسوں کےتیل کامشین،موٹرسائیکل مستری ورکشاپ،سروس ڈیگ،سردی کےموسم کاسامان،انسانوں اورجانوروں کی دوائیاں،ڈیلیوری کیس کےلیےلیڈی ڈاکٹر،ایزی پیسہ،جازکیش،احساس پروگرام کی سہولت،بےنظیرانکم ٹیکس پروگرام،موبائل ریپئر(مستری)،الیکٹریشن دکان،بجلی کی سہولت،پانی کے تین ڈیم،مویشیوں کےسوداگر،کپڑوں کی دکان اورپٹرول کی سہولت موجود ہے۔اسی طرح لڑکوں(boys)کےلیےپرائمری،مڈل اورہائی سکول،ایک گرلز پرائمری سکول،پندرہ ماسٹر،دواستانیاں،تین سرکاری ٹیوب ویل جن میں سے ایک شمسی پلانٹ کاہے۔اسی طرح گاؤںسمندی میں چارفلائنگ کوچز،چھ ٹیکسی موٹرکار،تین ڈیمپر،دس ڈاٹسن،چھ ٹریکٹر،ایک مزدہ گاڑی،چارزرنج یعنی ٹریفک کی سہولت موجود ہے۔اسی طرح چارتالاب،مرغی گوشت کی دکان ،پانچ آٹے کی شمسی پلانٹ والے چکیاں،ترکھان،اتورکےدن لوہار کاموجودہونا،انتالیس پریشرپمپ جن میں  سےاکثرسولرپلانٹ والےہیں،ایک حکیم،سرکاری آٹے کی سہولت اوربارہ مکان بنانےوالےمستری ہیں۔اس گاؤں کےسب علما اس استفتاء پرمتفق ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا تفصیل کےمطابق گاؤں سمندی میں نمازجمعہ پڑھناجائزہےیانہیں؟

جواب

             واضح رہےکہ جمعہ کاانعقادصرف شہر،قصبہ یاکسی بڑے گاؤں میں کیاجاسکتاہے۔بڑے گاؤں(قریہ کبیرہ)کی علامات مختلف زمانوں میں فقہاےکرام نےاپنے عرف کےمطابق بیان کی ہیں۔موجودہ دور میں جس گاؤں ياقصبہ کی آبادی دو،ڈھائی ہزارافرادپرمشتمل ہواور ضروریات زندگی اس میں میسرہوں تواس میں نمازجمعہ جائزہے۔

            صورت مسئولہ میں اگرواقعتاً گاؤں سمندی کی آبادی دو،ڈھائی ہزارسےمتجاوزہو،اورضروریات زندگی میسرہوں تو اس میں نمازجمعہ کی ادائیگی جائز ہے۔

 

لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى لقوله عليه الصلاة والسلام لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع۔(الهداية،كتاب الصلوة،باب الجمعة،ج:1،ص:177)

وتؤدى الجمعة في مصر واحد في مواضع كثيرة وهو قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى وهو الأصح۔(الفتاوى الهندية،الباب السادس عشرفي صلاة الجمعة،ج:1،ص:145)

واستشهد له بما في التجنيس عن الحلواني أن كسالى العوام إذا صلوا الفجر عند طلوع الشمس لا يمنعون لأنهم إذا منعوا تركوها أصلا وأداؤها مع تجويز أهل الحديث لها أولى من تركها أصلا۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار،ج:2،ص:171)


فتویٰ نمبر : 9365/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں