بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

پوسٹر چھپوانا


سوال

آج کل لوگ اپنے پروگراموں کے لئے  پوسٹر  چھپواتےہیں اور دیواروں پر لگاتے ہیں،اکثراوقات وہ زمین اور نالیوں  میں گرجاتے ہیں اور ان میں مقدس نام بھی ہوتے ہیں،تو کیا اس طرح کے پوسٹر چھاپناجائز ہے یا نہیں؟

جواب

                  واضح رہے کہ پروگراموں کی تشہیر کے لئے اشتہار یا پوسٹر چھپوانے میں کوئی حرج نہیں،البتہ اگر ان میں مقدس نام ہوں اوریواروں پر چسپاں کرنے کی صورت میں دیواروں سے گر کر نالی ،زمین وغیرہ پر گرجانے اور بےادبی کا اندیشہ ہو تو ایسے پوسٹروں میں مقدس نام کے چھاپنے سے اجتناب کرنا چاہیئے ۔

 

كتابة ‌القرآن ‌على ‌ما ‌يفترش ويبسط مكروهة...بساط أو مصلى كتب عليه الملك لله يكره بسطه والقعود عليه واستعماله، وعلى هذا قالوا: لا يجوز أن يتخذ قطعة بياض مكتوب عليه اسم الله تعالى علامة فيما بين الأوراق لما فيه من الابتذال باسم الله تعالى، ولو قطع الحرف من الحرف أو خيط على بعض الحروف في البساط أو المصلى حتى لم تبق الكلمة متصلة لم تسقط الكراهة، وكذلك لو كان عليهما الملك لا غير، وكذلك الألف وحدها واللام وحدها، كذا في الكبرى.(الفتاوی الھندية،ج:5 ص:323،المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)


فتویٰ نمبر : 5264/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں