بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنا


سوال

اگر ایک مرد اور ایک بیوہ عورت دو گواہوں کی موجودگی میں  خود ایجاب و قبول کر لیتے ہیں تو کیا نکاح منعقد ہو جائے گا ۔تفصیلی فتوٰی عنایت فرمادیں۔

جواب

                    شریعت کی رو سے نکاح کے انعقاد کے لیے  دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ جب مجلس عقد میں  دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہ موجود ہوں، اور ان کے سامنے مرد اور عورت خود یا ان کے وکیل  ایجاب و قبول کرلیں تو ایسی صورت میں ان کا  نکاح منعقد ہوجاتاہے۔

                 لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر ایک مرد اور ایک بیوہ عورت دو گواہوں کی موجودگی میں  خود ایجاب و قبول کر لیں تو شرعا ان کا نکاح منعقد ہوجائےگا۔

 

(و)شرط(حضور)شاهدين(حرين)أو حر و حرتين(مكلفين سامعين قولهما معا)على الأصح(فاهمين)أنه نكاح على المذهب.(الدرالمختارعلی صدرردالمحتار،كتاب النكاح،ج:4،ص:87۔۔۔92،دارالكتب العلمية)

قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف ".(الهداية،كتاب النكاح،ج:2،ص:5،بشرى)


فتویٰ نمبر : 6584/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں