بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/10/2026

دارالافتاء

 

بیوی کا شوہر سے پوچھے بغیرعمرہ پر جانا


سوال

ايک عورت خاوند کی اجازت کےبغیر اپنے بیٹے اور والدہ  کے ہمراہ سفر پر  چلی گئی ہے۔تمام خرچہ  عمرہ کا اس عورت کے بھائیوں   نے کیا تھا اور اس دوران خاوند بے خبر تھا کہ میری بیوی عمرہ پر جارہی ہے۔تو جب یہ عورت اسلام آباد پہنچ گئی تو اپنے خاوند کو فون  کرکے بتایا  کہ  میں عمرہ کی ادائیگی کے  لیے آپ کی اجازت کے بغیر جارہی ہوں اور آپ سے پوچھا نہیں تھا۔خاوند  نے سالے سے رابطہ کیا تو جوابا کہا کہ یہ تو ثواب کے کام (عمرہ کی ادائیگی )کے لیے جارہی ہے جو کہ اچھا کام ہے۔تو اس طرح عورت کا خاوند کی اجازت کے بغیر جانا کیسا ہے۔کیا یہ سفر معصیت ہے ؟

جواب

               شریعت مطہرہ کی رو سے عورت کے لیے اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر نکلنا جائز نہیں  ہے ۔چنانچہ اگر کوئی عورت شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلی تو وہ شوہر کی نافرمانی کی وجہ سے گناہ گار ہو گی ۔احادیث مبارکہ میں ایسی عورت کے بارے میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔

               صورتِ مسئولہ میں بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر عمرہ کے لیے جانا جائز نہیں ہے، خواہ اس کے ساتھ جانے کے لیے محرم  بیٹا یا رشتہ دار کیوں نہ ہو۔ اس کا عمرہ ادا ہوجائے گاالبتہ  شوہر کی نافرمانی کی وجہ سے گناہ گار ہوگی۔

 

(ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا۔ ۔ ۔ وعند وجود المحرم كان عليها أن تحج حجة الإسلام، وإن لم يأذن لها زوجها، وفي النافلة لا تخرج بغير إذن الزوج.(الفتاوى الهندية،کتاب المناسك،الباب الاول،ج:1،ص:218،دارالفکر،بیروت)

(قوله فلا تخرج إلخ) جواب شرط مقدر: أي فإن قبضته فلا تخرج إلخ، وأفاد به تقييد كلام المتن فإن مقتضاه أنها إن قبضته ليس لها الخروج للحاجة وزيارة أهلها بلا إذنه مع أن لها الخروج وإن لم يأذن في المسائل التي ذكرها الشارح كما هو صريح عبارته في شرحه على الملتقى عن الأشباه."(رد المحتار علی الدرالمختار،کتاب النکاح،باب المهر،ج:4،ص:293،ط:دار الکتب العلمية،بيروت)

"وروي عن ابن عباس رضي الله عنهما أن امرأة من خثعم أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله! أخبرني ما حق الزوج على الزوجة؟؛ فإني امرأة أيم فإن استطعت وإلا جلست أيماً! قال: فإن حق الزوج على زوجته إن سألها نفسها وهي على ظهر قتب أن لا تمنعه نفسها، ومن حق الزوج على الزوجة أن لا تصوم تطوعاً إلا بإذنه فإن فعلت جاعت وعطشت ولا يقبل منها، ولا تخرج من بيتها إلا بإذنه فإن فعلت لعنتها ملائكة السماء وملائكة الرحمة وملائكة العذاب حتى ترجع، قالت: لا جرم ولا أتزوج أبداً". رواه الطبراني".۔(الترغیب والترهیب للمنذری،ج:3،ص:37)


فتویٰ نمبر : 9361/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں