بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوہ،چاربیٹوں اورپانچ بیٹیوں کےدرمیان تقسیمِ میراث


سوال

ایک بندے کے چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ سارے شادی شدہ ہیں۔ آج سے تقریباً 13 سال پہلے اس کی بیوی کا انتقال ہو گیا۔ تو اس نے  دوسری شادی کر لی۔ دوسری بیوی سے کوئی اولاد نہیں۔ اس بندے کا سال پہلے انتقال ہوگیا۔ اس کے ورثا میں اس کی دوسری بیوی، چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ دوسری بیوی کے نام پر ایک عدد گھر اور ایک پلاٹ زندگی میں اس کے نام پر کیا تھا۔ اور بیٹوں کے لئے گھر بھی تقسیم کیا تھا اور گھر میں پانچ  مرلے بیٹیوں کے لیے مختص کئے گئے۔ اب اس کا 20 مرلے کا کمرشل پلاٹ ہے اور 6 مرلہ علیحدہ   دو منزلہ دوکان ہے۔ اس بندے نے ایک موقع پر مجھے کہا تھا کہ بیس مرلہ پلاٹ میں یہ اپنی بہنوں کو راضی کرے۔اب وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی۔دوسری بیوی کو مزید حصہ ملے گا یا نہیں۔ اور بیٹیوں کا حصہ صرف 20مرلہ پلاٹ تک محدود ہوگی یا پھر 6 مرلہ پلاٹ میں بھی بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

جواب

                 واضح رہے کہ  اگر کوئی شخص  اپنی زندگی میں اولاد کے درمیان جائیداد  کو تقسیم کرنا چاہے تو اس کی اجازت ہے ،تاہم شرعاً یہ  میراث نہیں بلکہ ہبہ متصور ہوگا،اس تقسیم میں  لڑکوں اور لڑکیوں كے درمیان برابری کا لحاظ رکھنا چاہیے،کیونکہ نبی کریمﷺ نے اولاد کے مابین  ہبہ کرنے میں برابری کا حکم دیا ہے،تاہم اگر کسی بیٹے یا بیٹی وغیرہ کو اس کی خدمت،دینداری یا غربت کی وجہ سے کچھ زیادہ حصہ دیا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔ نیزمرنے کے وقت جو  شخص کوئی مال  چھوڑ دے تو وہ ترکہ  شمار ہوتا ہے جو اس کے ورثا کے درمیان قانون شرعی کے مطابق تقسیم کرنا ضروری ہے۔

                 صورت مسئولہ کے مطابق  میت نے اپنی زندگی میں بیوی،بیٹے اور بیٹیوں کو ہبہ کے طور پر جو حصہ دیا ہے  اگر اس پر انہوں نے قبضہ بھی دیا تھا  تو وہ اس کےمالک شمار ہوں گے۔ البتہ اس شخص کی وفات  کے بعد اس کے متروکہ مال وجائیدادمیں سب زندہ ورثا کا حصہ ہوگا،چنانچہ بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا اور بیٹوں کو بیٹیوں کی بنسبت دگنا حصہ دیا جائے گا۔  

میـــــــــــــــــــــــــــــ(104)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

بیوہ    بیٹا       بیٹا      بیٹا       بیٹا      بیٹی     بیٹی     بیٹی      بیٹی      بیٹی

13    14      14      14       14       7      7        7         7       7

             بشرط صدق وثبوت اگر مرحوم کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ کوئی اور قریبی وارث موجود نہ ہوتو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا  ترکہ ایک سو چار(104)حصوں میں تقسیم ہوکربیوہ کو13/104حصے، ہر ایک بیٹے کو 14/104حصے،جب کہ ہرایک بیٹی کو 7/104حصے دیےجائیں گے۔

 

قال اللہ تعالیٰ:﴿یوصیکم اللہ في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين﴾ (النساء:11)

وقوله تعالى:﴿فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم﴾ (النساء:12)

عن النعمان بن بشيرأن أباه أتى به إلى رسول اللهﷺفقال:إني نحلت ابني هذا غلاما، فقال:"أكل ولدك نحلت مثله؟ قال:لا، قال:فأرجعه.(صحيح البخاري،كتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها،الحدیث:2586)

وفي الخانية ‌ولو ‌وهب ‌شيئا ‌لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الوقف، مطلب مهم في قول الواقف على الفريضة الشرعية، ج:6، ص:664)


فتویٰ نمبر : 3389/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں