بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

نئے وطن اقامت سے سفر کرکے پرانے وطن اقامت میں آکر نماز کا حکم


سوال

اگر ایک طالب علم اپنے گاؤں سے تین چار  کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مدرسے میں سال گزارے،اور دوسرے سال وہ کسی ایسے مدرسے میں داخلہ لے  جو ا س کے گاؤں سے مسافت سفر کے برابر دور ہو،تواگر یہ طالب علم اس نئے مدرسے سے پرانے مدرسے  میں آتا ہے جو اس کے گاؤں سے 3،4 کلومیٹر دور ہے،تو اس میں یہ مسافر شمار ہوگا یا مقیم؟ نیز اگر اس نے ظہر و عصر کی نمازیں وہاں کے مقیم لوگوں کو پڑھائی ہوں تو کیا ان کی نمازیں ادا ہوئی ہیں یا ان پر اعادہ کرنا لازم ہوگا؟

جواب

              واضح رہے کہ اگر کوئی آدمی اپنا وطن اقامت چھوڑ کر  دوسری جگہ کو وطن اقامت بنائے، اور پہلے والے وطن اقامت کو مکمل  چھوڑنے کا عزم ہو تو پہلا وطن اقامت ختم ہو جاتا ہے،یاپہلے وطن اقامت کو مکمل چھوڑنے کے عزم سے سفر کرے تب بھی پہلا وطن اقامت ختم ہو جاتا ہے ، اگرچہ اس نے ابھی تک کوئی دوسرا وطن اقامت نہ بنایا ہو۔

               لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  اگراس طالب علم نے پہلے والے مدرسے میں  اقامت کی نیت سے مسلسل پندرہ راتیں گزاری تھیں تو پہلا مدرسہ اس کے لیے وطن اقامت بن گیا تھا ، پھرجب  اس نے اگلے سال اس کو چھوڑ کر دوسرے مدرسے کو وطن اقامت بنایا ، تو پہلا والا مدرسہ اس کے لیے وطن اقامت  نہ رہا،  اب گر  سائل نئے مدرسے سے  آتے ہوئےپہلے اپنے گھر گیا ہو  اور وہاں سے پرانے مدرسے میں آیا ہوتو چونکہ گھر سے وہاں تک مسافت کم ہےاس لیے وہاں پوری نماز پڑھے گا ، اور اس کی امامت بھی جائز ہوگی،تاہم اگر وہ اپنے گاؤں پہنچنے سے پہلےاس مدرسے میں آیا ہوتو وہ وہاںمسافر شمار ہوکر قصر کا حکم ہوگا۔ چنانچہ  اس صورت میں اس نے  علاقہ كے  مقیم لوگوں کو جو ظہر و عصر کی نمازیں اتمام کے ساتھ پڑھائی ہیں، ان کا اعادہ کرنا ان پر لازم ہوگا، لہذا ان کو اس کی اطلاع کردے۔

 

(و)يبطل  (وطن الإقامةبمثله و) بالوطن( الأصلي و ) بإنشاء(السفر)والأصل أن الشيئ  يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه. (الدر المختار مع ردالمحتار،كتاب الصلوة، باب صلوة المسافر،ج:2،ص:612.615)

قوله:(لم يصر مقيما) فلو أتم المقيمون صلوتهم معه فسدت؛لأنه اقتداءالمفترض خلف المتنفل. (ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلوة،باب صلوة المسافر،ج:2،ص:612)

ووطن الإقامة يبطل بوطن الإقامة، وبإنشاءالسفر، و بالوطن الأصلي.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة،ج:1، ص:202، دارالفكر)

(ويبطل وطن الإقامة)...وهو ما خرج إليه بنيةإقامة نصف شهر سواءكان بينه و بين الأصلي مسيرةالسفر أو لا، وهذا روايةابن سماعة عن محمد، وعنه أن المسافة شرط، والأول هو المختار عند الأكثرين. (ردالمحتار شرح الدرالمختار،باب صلوةالمسافر،ج:2،ص:617،دارالكتب العلمية)

وإن دخل الموضع الذي نوى الإقامة فيه بالليالي يصير مقيما...لأن موضع إقامةالرجل حيث يبيت فيه. (بدائع الصنائع،كتاب الصلوة،ج:2،ص:270)


فتویٰ نمبر : 9360/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں