بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ڈھوک نوشہری میں نماز جمعہ کا حکم


سوال

ہمارے علاقہ ڈھوک مصطفی میں تقریبا ایک ہزار آبادی ہے،اس کے بائیں طرف(120)فٹ کے فاصلے پر مکان ہے،پھر سو(100)فٹ کے فاصلے پر مارکیٹ ہے،پھر سوفٹ کے فاصلے پر ڈسپنسری ہے اورپھر(150)فٹ کے فاصلے پر جامعہ عثمانیہ نوشہری کےنام سے ایک مدرسہ ہے جوکہ ڈھوک نوشہری کاحصہ ہےاوراس میں طلبہ وطالبات کی مجموعی تعداد (380)ہیں ،پھر اس کےساتھ دائیں جانب چاسوفٹ(400)ڈھوک نوشہری ہے جس کی مجموعی آبادی تقریباآٹھ سو (800) افراد ہیں ،جامعہ عثمانیہ کی مشرق میں دوسواسی(280)فٹ کے فاصلے پردتیال ہے جس کی مجموعی آبادی تقریباآٹھ سو (800) افراد ہیں،ان کے علاوہ اس علاقے میں درج ذیل سہولیات بھی ہیں،گورنمنٹ ہائی سکول،مڈل سکول گرلز،ڈاکٹر،الیکٹریشن ،میڈیکل سٹور،نائی،موچی،ویلڈر،درزی،کریانہ سٹور،ڈیزل ایجنسی،فوٹوسٹیٹ،گیس فلنگ،لیڈی ہیلتھ ورکر،ہوٹل،تندور،آٹاچکی،بلڈنگ میٹیریل،بلاک فیکٹری،میڈیکل سٹور حیوانات،دودھ شاپ،کپڑے کی دکان وغیرہ جیسی سہولیات موجود ہیں۔ایسے علاقے میں جمعہ ادا کرنے کاکیاحکم ہے؟نیز باہرسے آنے والا شخص (مثلا تلہ گنگ سے)کچیاں کانام لیتاہےجوکہ پراناقصبہ ہے اور کچیاں میں کئی سالوں سے جمعہ پڑھایاجارہاہے،ڈھوک نوشہری اوراس کے آس پاس دوسرے ڈھوک سارے داخلی کچیاں کےنامسےمشہور ہے اوربقول مقامی نمبردار یہ کچیاں کاحصہ شمارہوتاہے،اورکچیاں میں بالغ افراد کی تعداد دوہزار ہے جبکہ مجموعی آبادی تقریبا تین ہزار پانچ سو(3500)ہے۔اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق ڈھوک نوشہری وغیرہ میں جمعہ کاقیام درست ہے یا نہیں؟

جواب

                    جمعہ کی صحت ِادائیگی  کے لیے دوسری شرائط کے علاوہ ایک شرط مصرہے یاوہ بڑا گاؤں جس میں شہر کی طرح سہولتیں پائی جاتی ہوں ۔مصر کی تعریف میں فقہائے کرام کی آرامختلف چلی آرہی ہیں ،ہر فقیہ نے اپنے زمانہ کے حالات اورعرف کو دیکھ کرمصر کی تعریف کی ہے ۔موجودہ دور میں جس علاقہ کی آبادی دوڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہواور اس میں ضروریات زندگی میسر ہوں تووہ بڑےگاؤں کی تعریف میں داخل ہوگا اوروہاں جمعہ پڑھناجائزہوگا۔

                        صورت مسؤلہ میں اگریہ آس پاس واقع ساری آبادی  عرف میں ایک ہی گاؤں/بستی شمار کی جاتی ہواوراس  کی مردم شماری تقریبا 3500افرادپرمشتمل ہونیز ضروریاتِ زندگی بھی دستیاب ہوں تویہاں جمعہ کی نماز جائز ہے۔

 

لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع۔(الهداية،كتاب الصلوة،باب الجمعة،ج:1،ص:177)


فتویٰ نمبر : 9366/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں