بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
تركہ کے بارے میں چند مسائل
سوال
ایک شخص نے سرکاری زمین پر بنی ہوئی ایک چھوٹی سی قدیم مسجد میں (تقریبا۰ ۱۹۷ میں) امامت شروع کی اور اس مسجد کو آباد کیا۔ بعد ازاں ۱۹۸۱ میں سرکار کی اجازت و تعاون وحوصلہ افزائی سے اس کی توسیع اور جدید تعمیر کر دی۔امام مسجد، اسی زمین کے مالک ادارے میں ملازم تھے۔ ادارے کے آفیسرز اور اہلکار بھی ایک عرصے تک اس مسجد کو اپنی سمجھ کر یہاں نماز کی ادائیگی کرتے رہے ۔ امام مسجد کو اپنا امام وخطیب کہتے رہے ۔اپنے ادارے کی امامت کی ذمہ داریاں اور سرکاری امامت کی ذمہ داریاں بھی امام صاحب نبھاتے رہے۔
امام مسجد کو اس ادارے میں ایک ملازمت بھی ملی جس کی بنا پر اسی ادارے کی جانب سے ایک رہائشی مکان بھی ملا تھا۔ جسے انہوں نے ریٹائرمنٹ پر خالی کر کے ادارے کے حوالے کر دیا۔ ساتھ ہی اپنے ذاتی خرچے پر مسجد کے ساتھ متصل اسی سرکاری زمین کے ایک حصے(خالی اراضی) پر مکان تعمیر کر وایا اور اس میں خودآل واولاد سمیت رہائش پذیر ہوئے۔ بعدازاں ان کے بڑے فرزند اسی مسجد میں اوقاف کی جانب سے خطیب بھی مقرر ہو گئے۔ کچھ عرصہ بعد مسجد کی دوسری جانب اسی اراضی کے ایک ٹکڑے پر دوسرے مکان کی تعمیر کر دی اور اس میں نقل مکانی کر کے رہائش پذیر ہوئے۔ جب کہ پہلے والے مکان کو کرایہ پر دے دیا۔ان کے کل چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔تمام بیٹیاں شادی شدہ ہیں ۔ دو بیٹوں کی شادیاں والد نے خود کروائیں جب کہ باقی دونوں کی شادیاں ان کے انتقال کے بعد بڑے بھائی اور والدہ نے کروائیں ۔ بھائیوں میں سے دوسرا بھائی والد کی زندگی میں ہی امامت کے سلسلے میں اس مکان سے نقل مکانی کر کے دوسری جگہ منتقل ہو گیا۔ بھائیوں کے درمیان مالی معاملات کی کوئی باقاعدہ تقسیم تو نہیں ہوئی البتہ اس بھائی کو مشتر کہ آمدنی میں سے راشن یانقدی کی صورت میں اس کا حصہ ملتا رہا۔۲۰۱۹ میں والدہ کا بھی انتقال ہو گیا ۔ چند مہینے قبل بھائیوں کے مابین (رہائش ، آبائی مشترکہ اموال، اور آمدن وخرچ کے حوالے سے)باہمی تقسیم کا داعیہ پیدا ہو گیا ۔ جس کے لیے بھائیوں نے اپنے دومعتمد علمائے کرام کو تقسیم کا حق واختیار دے دیا کہ آپ مناسب طریقے سے ہمارے ان معاملات کو تقسیم کر دیں ۔ ساتھ ہی اپنی چار بہنوں کا تذکرہ بھی ان سے کر دیا تھا ۔انہوں نے چاروں بھائیوں کے مابین معاملات تقسیم کر دیے اور اپنی فہم وفراست کے مطابق ہر بھائی کو اس کا حصہ متعین کر کے بتا دیا۔ جس میں مستفتی اوراس کے ایک بھائی(یعنی چار میں سے دو بھائیوں کو )وہ پہلا تعمیر شدہ مکان ملکیتا دے دیا جو کرایہ پر دیا گیا ہے اس کے ساتھ متصل ایک چھوٹی سی دکان بھی ہے۔ جس کا ماہانہ مجموعی کرایہ بتیس ہزار روپے ہے جو فی الحال دو بھائیوں کے مابین سولہ سولہ ہزار روپے تقسیم ہوتا ہے۔
وضاحت طلب امر یہ ہے کہ اس مکان کی زمین کی ملکیت نہ والد کے پاس قانونی طور پر موجود تھی نہ ہی اب بیٹوں کے پاس اور فی الحال ایسی کوئی صورت ممکن نظر نہیں آتی ہے کہ قانونی تقاضے پورے کر کے اس کی ملکیت حاصل کر لی جائے بایں ہمہ اس مکان و وکان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اگر شرعی لحاظ سے اس "زمین کی ملکیت" ان کےپاس نہیں ہے تو مکان (صرف عمارت) کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور تقسیم وراثت میں یہ پورا گھر(زمین مع مکان) شمار ہوگا ؟ یا صرف تعمیر عمارت ان کی ملکیت شمار ہوگی؟ نیز ، یہ تعمیر شدہ عمارت شمار ہوگی یا محض ملبہ؟ کیوں کہ خدانخواستہ سرکار چاہے تو یہ قبضہ چھڑا بھی سکتی ہے ۔ تمام صورتوں میں والدہ مرحومہ اور بہنوں کے حصص کا کیا حکم ہوگا ۔ بعض علمائےکرام کے بقول، والد جب اپنی زندگی میں ہی مکان بنوا کر بیٹوں کو رہائش کے لیے دے دیتا ہے تو یہ دلالۃً تملیک و ہد یہ ہے۔ مکانات کے علاوہ جو چیز میں والد مرحوم کی زندگی میں اس کی ملکیت متصور ہوتی تھیں یا اہل خانہ کی مشترکہ ملکیت یا استعمال میں شامل تھیں ان کا کیا حکم ہے اور بہنوں کے لیے ان کی کیا حیثیت ہے؟ بھائیوں نے جن علمائے کرام کو تقسیم وراثت (بطریق صلح ، یعنی قبل از قبضہ حق کی معافی کرنے) کا اختیار دے دیا تھا اور بعد ازتقسیم اس پر رضامندی کا اظہار کر دیا۔ کیا یہی طریقہ کار درست اور کافی ہے یا نہیں؟ واضح رہے کہ چار میں سے چند بھائیوں نے اپنی دستیاب معلومات کے مطابق جو چیزیں ان حضرات کو بطور میراث بتا دی تھیں ، انہوں نے صرف انہی چیزوں کا تذکرہ کر کے چار بھائیوں میں (بہنوں کے بغیر) اپنی فہم کے مطابق تقسیم کر دیں ۔ان متذکرہ چیزوں کے علاوہ کسی اور چیز کا کوئی تذکر نہیں کیا۔
جواب
شریعت کی روشنی میں میراث کے احکام میت کے ترکہ میں جاری ہوتے ہیں یعنی جو مال بوقت وفات میت کی ملکیت میں داخل ہو وہ ورثا میں بقدر حصص تقسیم کیا جائے گا اور جو مال بوقت وفات اس کی ملکیت میں نہ ہو وہ ترکہ شمار نہ ہوگا۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق سرکاری زمین پر بغیر سرکار کی اجازت کے مکان اور دکان بنانے سے زمین مرحوم کی ملکیت نہیں بنی تھی اس لیے بطور میراث اولاد ان کے مالک نہیں بنتی البتہ جو تعمیر مرحوم نے ذاتی خرچ سے کی ہے وہ اس کا مالک تھا اور اب بطور میراث ورثا اپنے حصص کے بقدر اس کے مالک ہوں گے۔
اس کے علاوہ جو بھی چیزیں مرحوم کی زندگی میں ان کی ملکیت میں تھیں، اب اس کے ورثا(بیوہ، چار بیٹے اور چار بیٹیاں) اپنے حصص کے بقدر اس کے مالک ہیں۔ نیز یہ بھی واضح ہو کہ اپنی زندگی میں کوئی شخص بیٹوں کو رہائش کے لیے مکان میں جگہ دے تو اس سے وہ اس کے مالک نہیں بنتے جب تک کہ انہیں باقاعدہ مالک نہ بنایا ہو۔
غصب من آخر دارا أو أرضا فبنى فيها بناء أو زرع فيها زرعا فقلع صاحبها الزرع وهدم البناء لا يضمن۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، الباب الثاني، ج:5، ص:156)
التركة في الاصطلاح:ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الفرائض، ج10ص 493)
تنعقد الهبة بالإيجاب والقبول، وتتم بالقبض۔ (شرح المجلة لسليم رستم باز، المادة:837، ص:462)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں