بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
ایک چارپائی پر متعدد میتیں قبرستان لے جانا
سوال
کیا ایک چارپائی پر متعدد میتیں قبرستان لے جا سکتے ہیں اگر ہاں تو کیا ان کےدرمیان محرم اور نامحرم کا فرق رکھنا ضروری ہو گا؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے چارپائی پر ایک ہی میت کو قبرستان لے جاناچاہیے جس طرح کہ قبرستان میں ہر ایک میت کو الگ دفنایاجاتاہے البتہ ضرورت کے پیش نظر ایک سے زائد میتوں کو ایک ہی قبرمیں دفنانا جائز ہےچنانچہ اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ہی چارپائی میں ضرورت کے پیش نظر دو میتوں کو لے جانا بھی جائز قرار دیا جاتاہے۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق ضرورت اور حاجت کے وقت اگرایک چارپائی پر متعدد میتیں رکھ کر قبرستان لے جائی جائیں تو ایسا کرنا درست ہو گااور اگر یہ آپس میں نا محرم ہو ں تو ان کے درمیان کپڑےیا کسی اور چیز کے ذریعے فاصلہ لایا جا ئے ۔
ولو اجتمع رجل وامرأة، أو صبي وخنثى وصبية دفن الرجل مما يلي القبلة، ثم الصبي خلفه، ثم الخنثى، ثم الأنثى، ثم الصبية؛ لأنهم هكذا يصطفون خلف الإمام حالة الحياة، وهكذا توضع جنائزهم عند الصلاة عليها فكذا في القبر۔ (بدائع الصنائع،كتاب الصلاة، (بدائع الصنائع،كتاب الصلاة، باب الجنازة،ج:2،ص:358)
ولا يدفن اثنان وثلاثة في قبر واحد إلا عند الحاجة يوضع الرجل مما يلي القبلة ثم خلفه الغلام ثم خلفه الخنثى ثم خلفه المرأة ويجعل بين كل ميتين حاجزا من التراب ليصير في حكم قبرين هكذا «أمر النبي - صلى الله عليه وسلم - في شهداء أحد وقال قدموا أكثرهم قرآنا» اهـ.(البحر الرائق،كتاب الجنائز،ج:2،ص:341)
وفي الوالولجية:المرأة اذا ماتت وليس لها محرم فأهل الصلاح من جيرانها يلي دفنها ولا أحد من النساءالقبر؛لأن مس الأجنبي المرأة فوق الثوب يجوز عند الضرورة في حالة الحياة ،وكذلك بعد الوفاة۔(الفتاوى التاتارخانية،كتاب الصلاة،باب الجنائز،ج:3،ص:74)
لا يدخل أحدا من النساء القبر ولا يخرجهن إلا الرجال ولو كانوا أجانب، لأن مس الأجنبي لها بحائل عند الضرورة جائز في حياتها، فكذا بعد موتها، فإذا ماتت ولا محرم لها دفنها أهل الصلاح من مشايخ جيرانها، فإن لم يكونوا فالشباب الصلحاء، أما إن كان لها محرم ولو من رضاع أو صهرية نزل وألحدهاا۔(شرح فتح القدير،كتاب الجنائز، ج:2ِ،ص:101)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں