بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

حالت حیض میں امتحانی پرچے میں قرآن کریم کی آیات لکھنے کا حکم


سوال

ہمارے یہاں تعلیمی اداروں میں بکثرت یہ صورت پیش آتی ہے کہ بچیوں ‏کی  ماہواری کے دنوں میں امتحان آجاتے ہیں اور امتحانی پرچے میں انہیں بعض اوقات قرآنی آیات لکھنی پڑتی ہیں ‏تو اس صورتحال میں ان کے لئے آیات لکھنے کا کیا حکم ہے؟ اگر وہ آیات نہیں لکھتیں تو بعض اوقات ان کے نمبر ‏کٹنے کا بھی امکان ہوتا ہے کیونکہ اس موقع پر آیت لکھنا ضروری ہوتا ہے۔ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

              واضح رہے کہ اگر کسی کاغذ وغیرہ پر پہلے سے کوئی آیت لکھی ہوئی ہو تو حالتِ حیض میں عورت کے لئے اس  آیت والی جگہ کو ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے اور آیت کو چھوئے بغیر وہ کاغذ کو ہاتھ میں پکڑ  اور اٹھا سکتی ہے، لیکن اگر عورت کو حالت حیض میں خود آیت لکھنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کے لئے کاغذ وغیرہ کو ہاتھوں میں پکڑتے اور اٹھاتے ہوئے یا ‏آیات کو چھوتے ہوئے آیت تحریر کرنا مکروہِ تحریمی اور ناجائز ہے، البتہ کاغذ پر ہاتھ رکھے اور اسے چھوئے بغیر زمین یا میز وغیرہ  پر ‏رکھ کر صرف قلم کی نوک سے آیات لکھنے کی گنجائش ہے، تاہم مکروہِ تنزیہی ہونے کی بناء پراس‏صورت سے بچنا بھی بہتر  ہے۔

                  لہٰذا ماہواری کے دوران امتحانات میں جواب لکھتے وقت طالبات اگر آیت لکھنے کی ضرورت محسوس کریں اور آیات لکھنا ناگزیر ہو تو پوری آیت نہ لکھیں البتہ آیت سے کم لکھنے کی گنجائش ہے. چنانچہ آیۃ کے جس ٹکڑے سے استدلال مقصود ہو صرف  وہی حصہ لکھے نیز  اگر صرف آیت کا حوالہ دینا کافی ہو تو آیت لکھنے کی  بجائے صرف ترجمہ وحوالہ  دینے پر اکتفاء کرلینا چاہیے۔

 

قال الله تعالى:﴿ لاَّ يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ ﴾(الواقعة:79)

ويكره للجنب والحائض أن يكتبا الكتاب الذي في بعض سطوره آية من القرآن ‏وإن كانا لا يقرآن القرآن والجنب لا يكتب القرآن وإن كانت الصحيفة على ‏الأرض ولا يضع يده عليها وإن كان ما دون الآية وقال محمد أحب إلي أن لا ‏يكتب وبه أخذ مشايخ بخارى. هكذا في الذخيرة.‏(الفتاوى الهندية:كتاب الطهارة،الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة،ج:1،ص:39)

قال ح: لكن لا يحرم في غير المصحف إلا بالمكتوب: أي موضع الكتابة كذا ‏في باب الحيض من البحر، وقيد بالآية؛ لأنه لو كتب ما دونها لا يكره مسه ‏كما في حيض القهستاني. وينبغي أن يجري هنا ما جرى في قراءة ما دون آية ‏من الخلاف، والتفصيل المارين هناك بالأولى؛ لأن المس يحرم بالحدث ولو ‏أصغر، بخلاف القراءة فكانت دونه تأمل.‏(رد المحتار على الدر المختار:كتاب الطهارة،سنن الغسل،ج:1،ص:173)


فتویٰ نمبر : 9364/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں