بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

كسی علاقے کے حاکم کا اقامت جمعہ کا حکم کرنا


سوال

اگر کسی جگہ حنفیہ کے مسلک کے مطابق جواز جمعہ کی شرائط موجود نہ ہوں لیکن ائمہ اربعہ میں کسی ایک  امام کے مسلک کے مطابق جمعہ قائم کرنا جائز ہو،اور اس  علاقے کا حنفی  حاکم (کمشنر یا ڈپٹی کمشنر) جمعہ قائم کرنے کی  اجازت دے دےتو وہاں جمعہ قائم کرنا  جائز ہوگا یا نہیں؟ اگر جائز ہو تو اس صورت میں  مذہب الغیر  کے صرف اقامت جمعہ  کی شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہوگا یا  نماز کے دیگر ارکان   میں بھی اسی مذہب کا لحاظ رکھنا ضروری ہوگا؟

جواب

                  اگر کسی مسئلے میں ائمہ اربعہ کے مابین  اختلاف ہو اور اس میں  حاکم وقت یا اس کا نائب  چاروں مذاہب میں  سے کسی ایک مذہب کے مطابق  حکم جاری کرے تو رعایا    کے لیے ایسی صورت میں  مذہب الغیر پر عمل کرنا جائز ہوگا۔

                   صورت مسئولہ میں  اگر حنفی  حاکم (کمشنر یا ڈپٹی کمشنر)  نے  کسی دیہات  میں جمعہ قائم کرنے کا حکم کیا ہو تو اس کا حکم نافذ ہوگا  اور رعایا کے لیے اقامت جمعہ  میں  مذہب الغیر پر عمل کرنا جائز ہوگا  البتہ دیگر اركان  نماز اپنے مذہب کے مطابق  ہی ادا کیے جائیں  گے۔

 

إذا بني مسجد في الرستاق بأمر الإمام فهو أمر بالجمعة اتفاقا على ما قال السرخسي اهـ فافهم والرستاق القرى كما في القاموس۔۔۔ وظاهر ما مر عن القهستاني أن مجرد أمر السلطان أو القاضي ببناء المسجد وأدائها فيه حكم رافع للخلاف بلا دعوى وحادثة۔۔۔وأفتى ابن نجيم بأن تزويج القاضي الصغيرة حكم رافع للخلاف ليس لغيره نقضه۔۔۔ ولا خفاء في أن من فوض إليه أمر العامة في مصر له إقامتها وإن لم يفوضها السلطان إليه صريحا(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة،باب الجمعة،مطلب في صحة الجمعة بمسجد۔۔۔ج:3،ص:7،8)


فتویٰ نمبر : 9351/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں