بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے لئےخریدی گئی زمین پرتقریبات منعقدکرنا


سوال

کیا مسجد کے لئے خریدی گئی جگہ میں نماز کے علاوہ اوقات میں عورتوں کے دینی اجتماع، عورتوں کے لئے جِم خانہ (فٹنس سینٹر) جو کہ مکمل پردے کے ساتھ عورت گائڈ کی رہنمائی میں ہو،بنا سکتے ہیں ؟ بچوں میں دینی و دنیوی شعور و آگہی کے لئے مختلف قسم کے پروگرام اور ویڈیو کے ذریعہ سمجھا اور سکھلا سکتے ہیں ؟ عمومی لائبریری جس میں دینی اور دنیاوی کتابیں ہوں،بنائی جا سکتی ہیں ؟ وقتا فوقتا ماہر طبیب و معالج کو بلا کر عامۃ الناس کی خدمت کا موقع فراہم کر سکتے ہیں ؟غیر مسلمین کو دعوتِ دین کی خاطر اُنہیں اُس جگہ جمع کر سکتے ہیں، مصالحِ مسجد میں کن کن چیزوں کے شامل و داخل کرنے کی گنجائش ہے؟

جواب

                   واضح رہے کہ جوزمین  مسجد کے لئے وقف کی جائے اور  اس میں ایک مرتبہ باقاعدہ جماعت  سےنمازادا کی جائے تو وہ جگہ مسجد شرعی کے حکم میں ہوجاتی ہے۔ لہذابطور مسجداس کااحترا م ضروری  ہوتاہے،اگر چہ  مستقل تعمیر نہ ہوئی ہو۔

                  صورت مسئولہ کے مطابق جوزمین مسجد كے لئے خريدی  گئی ہے،اس میں اگر اب تک باقاعدہ جماعت کے ساتھ   نمازادانہ ہوئی ہو ،پھر تواس کاحکم عام زمینوں کی طرح ہے۔لہذاکسی بھی جائزمقصد کے لیےاستعمال کرسکتے ہیں۔

لیکن اگر ایک مرتبہ باقاعدہ جماعت ادا ہوئی ہو،تو وہ جگہ مسجد شرعی کے حکم میں ہوگی ،اور  مسجد کی طرح اس کااحترام لازمی ہوگا۔

                  لہذا وہاں عورتوں کے لئے جِم خانہ (فٹنس سینٹر)بنانا یا عام لوگوں کاعلاج معالجہ کرنایاکوئی ایسی تقریب منعقد کرنے کی گنجائش نہیں ،جواحترام مسجد کےخلاف ہو،تاہم بچوں کی دینی تربیت ،یا غیر مسلموں کو دعوتِ دین کی خاطرکوئی ایسی تقریب منعقد کرنا جو وعظ و نصیحت پر مشتمل ہو، یا وہاں پردینی کتابیں  رکھنےکی گنجائش ہے۔

 

من بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقة ويأذن بالصلاة أما الإفراز فلأنه لا يخلص لله تعالى إلا به...وأما الصلاة فلأنه لا بد من التسليم عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى هكذا في البحر الرائق، التسليم في المسجد: أن تصلی فيه جماعة بإذنه وعن أبي حنيفة رحمه الله تعالى فيه روايتان في رواية الحسن عنه: يشترط أداء الصلاة فيه بالجماعة بإذنه اثنان فصاعدا كما قال محمد رحمه الله تعالى،والصحيح:رواية الحسن كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوى الهندية،كتاب الوقف،الباب الحادي العشر،ج:2ص:408)

وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها  إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارىء الخ فما كان منه في الوعظ والحكم وذكر نعم الله تعالى وصفة المتقين فهو حسن وما كان من ذكر الأطلال والأزمان والأمم فمباح وما كان من هجو وسخف فحرام وما كان من وصف الخدود والقدود والشعور فمكروه.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،مطلب في إنشاد الشعر ج1ص442)

ثم وقف المصحف إذا وقفه على أهل المسجد يقرءونه إن يحصون يجوز وإن وقف على المسجد يجوز أن يقرأ في هذا المسجد.(الفتاوى الهندية،الباب الثاني في مايجوزوقفه ومالايجوز،ج:2،ص:361)


فتویٰ نمبر : 5255/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں