بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

پراپرٹی ڈیلر کا اپنی زمین بیچنےکی کمیشن لینا


سوال

ایک پراپرٹی ڈیلر ہے ،اور ان کے ساتھ دو تین آدمی ایک پلاٹ میں شریک ہیں،تو پراپرٹی ڈیلر اپنے شرکا کو کہتا ہے کہ میں گاہک کو تلاش کروں گا زمین کے لیے اور اس کے بدلے تم سے کمیشن لوں گا اور مشتری کو بھی کہتا ہے، کہ میں شرکاسے بات کروں گا کہ جو زمین ہمارے درمیان مشترک ہے، وہ شرکا آپ پرفروخت کریں ،لیکن میں تم سے  کمیشن لوں گا تو پراپرٹی ڈیلر کے لیے جو خود عقد نہیں کرتا ہے،بلکہ عقد ان کے شرکا کرتے ہیں، اپنے شرکا اور مشتری سے تمام زمین کا کمیشن لینا جائز ہے ،یا نہیں ؟حالانکہ اس زمین میں اس کا بھی حصہ ہے ۔

جواب

خریدوفروخت کے معاملہ میں بائع اور مشتری کے درمیان واسطہ بننے والے کو اصطلاح فقہ میں سمسار یادلال کہتے ہے ،ضرورت اور کثرت تعامل کی وجہ سے فقہاء نے دلال کے لیے کمیشن لینے کو جائز قرار دیا ہے ،بشرطیکہ کمیشن کی اجرت متعین ہو، اور  معاملہ بائع اور مشتری خودکریں،صورت مسئولہ میں پراپرٹی ڈیلر کی حیثیت دلال کی ہے، چنانچہ اگر پراپرٹی ڈیلر صرف واسطہ ہو، اورعقددیگر شرکاءکریں ،تواس صورت میں پراپرٹی ڈیلر کے لیےاپنے شریکوں  سے ان کے حصوں کے  بقدر اور مشتری سے بھی اپنے شریکوں کے حصوں کے بقدر کمیشن لینا جائز ہوگا، جب کہ  اپنے حصے کے بقدر کمیشن لینا جائز نہیں۔

 

وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة ‌السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام۔(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الإجارة،ج:9ص:87)

‌الدلال ‌إذا ‌باع العين بنفسه ثم أراد أن يأخذ من المشتري الدلالة ليس له ذلك؛ لأنه هو العاقد حقيقة وتجب على البائع الدلالة؛ لأنه فعل بأمر البائع هكذا أجاب ثم قال ولو سعى الدلال بينهما وباع المالك بنفسه يضاف إلى العرف إن كانت الدلالة على البائع فعليه وإن كانت على المشتري فعليه وإن كانت عليهما فعليهما۔(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية،كتاب البيوع،ج:1،ص:87)


فتویٰ نمبر : 3217/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں