بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

رشتہ دار کو زکوۃ کے مال سے مکان بنا کر دینا


سوال

ایسے رشتہ دار جو اپنے آپ کو مستحق نہ کہتے ہوں ان کو تملیک کروا کر مکان بنا کر دینا جائز ہے جیسے مدارس میں طلباء سے تملیک کرو اکر نظام چلایا جاتا ہے؟

جواب

                   شریعت کی رو سے زکوۃ کی ادائیگی میں بنیادی شرط تملیک( مستحق زکوۃ کومالک بنانا)ہےچاہے زکوۃ نقد رقم کی شکل میں ادا کی جائے یا دیگر اشیاء کی صورت میں ۔

                 لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر رشتہ دار مستحق ہوں تو انہیں زکوۃ کی رقم سے مکان تعمیر کروا کر اس کا مالک بنانا جائز ہے، مال تملیک کروانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر رشتہ دار مستحق نہ ہوں توزکوۃ کی رقم کی تملیک یا اسی طرح زکوۃ کے مال سے مکان بنا کردینا دونوں جائز نہیں۔

 

أما الذي يرجع إلى المؤدى  فمنها أن يكون مالا متقوما على الإطلاق سواء كان منصوصا عليه أو لا من جنس المال الذي وجبت فيه الزكاة أو من غير جنسه۔ (بدائع الصنائع ،كتاب الزكوة ،فصل فيما يرجع الى المؤدى،ج2/ص461)

ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا ) لا إباحة۔ (الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب الزكوة ،باب المصرف،3/ص291)


فتویٰ نمبر : 9356/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں