بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

امام جصاص رحمہ اللہ کی ایک عبارت کی وضاحت


سوال

امام جصاص رحمہ اللہ کی ایک عبارت کے اندر حضرت امیرمعاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں بظاہر بڑے سخت الفاظ ہیں جو کسی بھی طرح کسی بھی صحابی کے بارے نہیں کہے جاسکتے چہ جائیکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کے بارے میں کہے جائیں ، وہ عبارت درج ذیل ہے:  وقد كان الحسن وسعيد بن جبير والشعبي وسائر التابعين يأخذون أرزاقهم من أيدي هؤلاء الظلمة، لا على أنهم كانوا يتولونهم ولا يرون إمامتهم، وإنما كانوا يأخذونها على أنها حقوق لهم في أيدي قوم فجرة. وكيف يكون ذلك على وجه موالاتهم وقد ضربوا وجه الحجاج بالسيف، وخرج عليه من القراء أربعة آلاف رجل هم خيار التابعين وفقهاؤهم فقاتلوه مع عبد الرحمن بن محمد بن الأشعث بالأهواز ثم بالبصرة ثم بدير الجماجم من ناحية الفرات بقرب الكوفة وهم خالعون لعبد الملك بن مروان لاعنون لهم متبرئون منهم وكذلك كان سبيل من قبلهم مع معاوية حين تغلب على الأمر بعد قتل علي عليه السلام وقد كان الحسن والحسين يأخذان العطاء وكذلك من كان في ذلك العصر من الصحابة ‌وهم ‌غير ‌متولين له بل متبرئون منه على السبيل التي كان عليها علي.(احکام القرآن للجصاص، جلد:1، ص: 71) اس عبارت میں امام جصاص رحمہ اللہ نے فاسق و فاجر حکام سے حضرات تابعین عظام رحمہ اللہ کے وظائف لینے کی وجہ بیان کی ہے اور اس پر بطور نظیر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے فعل کو پیش کیا ہے اور یہ بات لکھی ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور خصوصا حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم اجمعین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے محبت کا رشتہ نہیں رکھتے تھے اور نہ ان کی امامت کے قائل تھے، سوال یہ ہے کہ یہ بات کس طرح درست مانی جاسکتی ہے؟، جبکہ اہل سنت ببانگ دہل حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے محبت و الفت کا دعوی کرتے ہیں اور اسے اپنی کتب میں بیان بھی کرتے ہیں، تو اس تناظر میں امام جصاص رحمہ اللہ کی مذکورہ بات کو کس طرح درست مانا جاسکتا ہے؟

جواب

                سوال میں مذکورہ بات کہ حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کو حضرت  معاویہ رضی اللہ عنہ سے محبت و الفت تھی ،اس کے بارے میں  کوشش کے باوجود  اہل سنت والجماعت کی کتابوں میں  کہیں  تصریح نہ مل سکی،تاہم امام جصاص رحمہ اللہ کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کی ولایت،بادشاہت ماننے اور اس سے وظیفہ لینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اس کی امامت و بادشاہت کےحق  ہونے کا اعتقاد بھی رکھتا ہو ۔اس بات کی وضاحت کے لیے آپ رحمہ اللہ نے پہلے حسن، سعیداور دیگر تابعین کی مثال پیش کی کہ وہ ظالم و جابر بادشاہوں (مثلاعبد الملک بن مروان وغیرہ)سے وظائف لیتے تھے اور ان کے خلاف بغاوت نہیں کرتے، باوجود یہ کہ وہ ان کی امامت کے قائل نہیں تھے۔اس کے ذیل میں حسنین رضی اللہ عنہما کی مثال پیش کی کہ وہ بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سےدوسر ےصحابہ کی طرح اپنے وظائف لیتے تھے،  مگر پھر بھی ان کی امامت کے حق میں نہیں تھے۔ چنانچہ لکھتے ہیں"فليس إذا في ولاية القضاء من قبلهم ولا أخذ العطاء منهم دلالة على توليتهم و اعتقاد إمامتهم" (ج:1، ص:71)اس سے واضح ہوتا ہے کہ مثال میں محبت ہونے یا نہ ہونے کی کوئی بات نہیں  ہے، بلکہ امامت حق ماننے یا نہ ماننے کے بارے میں یہ عبارت ہے۔


فتویٰ نمبر : 5271/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں