بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیٹے کا ماں کے پیر کو چھونا


سوال

زید فحش فلم دیکھ رہا تھا ، اور اسی وجہ سے اس پر شہوت کا غلبہ تھا ، اسی اثناء میں  قریب لیٹی ہوئی اپنی ماں کے پیر کو مس کردیتا ہے ، جس کی وجہ سے شہوت میں اضافہ ہونے کا غالب گمان ہے ، اور انزال بھی نہیں ہوا ، لیکن ماں کے پیر کو مس شلوار کے اوپر سے تھا ، جسم کی حرارت محسوس ہورہی تھی ،وہ یقینی طور پر یاد نہیں ہے ، کیونکہ 4 سال پراناواقعہ ہے ، سب سے زیادہ یقینی بات یہ ہے کہ ماں کے متعلق نعوذ باللہ کسی قسم کا قلبی میلان نہیں تھا ، جو کچھ شھوت کا غلبہ تھا وہ موبائل کی وجہ سے تھا ، کیا ایسی صورت میں حرمت مصاہرت ثابت ہوگی ؟ کیا حرمت کیلئے صرف انتشار آلہ کافی ہے یا انتشار کے ساتھ رغبت جماع الی الممسوسہ بھی ضروری ہے ؟؟؟ امداد الاحکام میں رغبت جماع کی شرط کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے کیا وہ درست ہے ؟ بنوری ٹاؤن وغیرہ کے فتاوی رغبت جماع کی شرط سے، ساکت ہے ، قیاس کے اعتبار سے رغبت جماع کی شرط ہونا ضروری معلوم ہوتا  ہے،کیونکہ شہوت کامل اسی وقت ہوتی ہے اور اسی شہوت کو جماع کے قائم مقام رکھا جا سکتا ہے، آپ مفتیان کرام کی کیا رائے ہے ؟

 

جواب

               واضح رہے کہ کسی عورت کو ہاتھ لگانے سے حرمت مصاہر ت تب  ثابت ہوتی ہے،جب مندرجہ ذیل شرائط پائی جائیں:

(1)ہاتھ لگاتے وقت شہوت  پیدا ہوجائے یا پہلے سے موجودہ شہوت میں اضافہ ہوجائے،

(2)درمیان میں کوئی ایسا حائل نہ ہوجو بدن کی حرارت ہاتھ تک پہنچنےسے مانع ہو،

(3)جس عورت کو ہاتھ لگایا ہو ،وہ  قابل شہوت ہو،

(4)ہاتھ لگانا جماع کی  طرف داعی ہو،لہذا اگر ہاتھ لگاتے وقت انزال ہوجائےتو حرمت ثابت نہ ہوگی کیونکہ انزال سے معلوم ہوا کہ ہاتھ لگانا مفضی الی الجماع نہیں ہے،

(5)شہوت کی حد میں فقہاء کرام کی عبارات مختلف ہیں،بعض نےتحرک آلہ یا انتشار کو معیار قرار دیا ہے،جبکہ اکثر نےملموسہ اور منظورہ کی طرف قلبی میلان اور  رغبت مجامعت کو شرط قرار دیا ہے،چنانچہ اگر شہوت ملموسہ و منظورہ کے علاوہ کسی اور کی طرف ہو،تو حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔

                صورت مسئولہ کے مطابق سائل نے جس عورت  کے  جسم کو چھوا ہے،اگر اس کی حرارت  کا محسوس ہونا یاد نہیں ہے تومحض شک کی بنا پرحرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔

 

وما ‌ذكر ‌في ‌حد ‌الشهوة ‌من ‌أن ‌الصحيح أن تنتشر الآلة أو تزداد انتشارا هو قول السرخسي وشيخ الإسلام، وكثير من المشايخ لم يشترطوا سوى أن يميل قلبه إليها ويشتهي جماعها...ثم هذا الحد في حق الشاب أما الشيخ والعنين فحدها تحرك قلبه أو زيادة تحركه إن كان متحركا لا مجرد ميلان النفس فإنه يوجد فيمن لا شهوة له أصلا كالشيخ الفاني، والمراهق كالبالغ.(فتح القدير،كتاب النكاح،فصل في المحرمات،ج:3،ص:129،مكتبة حقانية)

ثم ‌المس ‌إنما ‌يوجب ‌حرمة ‌المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة...ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة، كذا في التبيين.ولو مس فأنزل لم تثبت به حرمة المصاهرة في الصحيح؛لأنه تبيين بالإنزال أنه غير داع إلى الوطيء۔(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الباب الثالث في بيان المحرمات،ج:1،ص:340،341)

وتفسير الشهوة هي أن يشتهي بقلبه ويعرف ذلك بإقراره؛ لأنه باطن لا وقوف عليه لغيره، وتحرك الآلة وانتشارها هل هو شرط تحقيق الشهوة؟ اختلف المشايخ .وقال بعضهم: ليس بشرط هو الصحيح؛ لأن المس والنظر عن شهوة يتحقق بدون ذلك كالعنين والمجبوب ونحو ذلك۔(بدائع الصنائع،كتاب النكاح،فصل في المحرمات،ج:3،ص:233)

ويشترط وقوع الشهوة عليها لا على غيرها لما في الفيض لو نظر إلى فرج بنته بلا شهوة فتمنى جارية مثلها فوقعت له الشهوة على البنت تثبت الحرمة، وإن وقعت على من تمناها فلا. (قوله: وحدها فيهما) أي حد الشهوة في المس والنظر ح (قوله: أو زيادته) أي زيادة التحرك إن كان موجودا قبلهما (قوله: به يفتى) وقيل حدها أن يشتهي بقلبه إن لم يكن مشتهيا أو يزداد إن كان مشتهيا، ولا يشترط تحرك الآلة وصححه في المحيط والتحفة وفي غاية البيان وعليه الاعتماد۔۔۔هذا الحد في حق الشاب أما الشيخ والعنين فحدهما تحرك قلبه أو زيادته إن كان متحركا لا مجرد ميلان النفس، فإنه يوجد فيمن لا شهوة له أصلا كالشيخ الفاني.(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب النكاح،فصل في المحرمات،ج:3،ص:33،مكتبة دارالفكر)

قاعدة:من شك هل فعل شيئا أم لا فالأصل أنه لم يفعل۔(الأشباه والنظائر على مذهب أبي حنيفة النعمان،القاعدة الثالثة،ص:50)  


فتویٰ نمبر : 6592/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں