بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کےصحن کی اینٹیں فروخت کرکے ليٹرین میں لگانا


سوال

مسجد کےصحن کی اینٹیں نکال کر اسے فروخت کرکے ليٹرین میں لگایا جاسکتا ہے؟

جواب

               واضح رہےکہ  مسجدكی جوچیزیں ناقابل انتفاع ہوجائیں ان کوفروخت کرکے  قیمت مسجد میں صرف کرناجائز ہے ۔

               لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق  مسجد کے صحن کی اینٹیں اگر قابل انتفاع نہ ہو ں تو ان کو فروخت کرناجائز ہے فروخت کرنےکی صورت میں کوئی بھی خرید سکتاہےاور خریدنے کے بعداس کو گھر میں یا کہیں اور جہاں چاہے استعمال کرنا درست ہے،تاہم بہتریہی ہے کہ ان  اینٹوں کو لیٹرین یا کسی ایسی جگہ استعمال کرنے سے اجتناب کیاجائے جو مسجدکی تعظیم کے خلاف ہو۔

 

الحاكم أو المتولي حاوي (نقضه) أو ثمنه إن تعذر إعادة عينه (إلى عمارته إن احتاج وإلا حفظه له ليحتاج) إلا إذا خاف ضياعه فيبيعه ويمسك ثمنه ليحتاج حاوي.( الدرالمختارمع ردالمحتار،مطلب في الوقف إذا خرب،ج:4،ص:377)

ولا ترمى براية القلم المستعمل لاحترامه كحشيش المسجد وكناسته لا يلقى في موضع يخل بالتعظيم.(الدرالمختارمع ردالمحتار،كتاب الطهارت،ج:1،ص:322)


فتویٰ نمبر : 5245/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں